چیز کے درمیان مناسبت ہوتی ہے اسی طرح خوابوں میں خیالات بعض اوقات اپنے مشابہ یا برعکس خیالات کی طرف منتقل ہوجاتے ہیں یا اس طرح جس کی تفصیل ابھی ہم نے بیان کی اور سکرات موت کے وقت بھی اسی طرح ہوتا ہے۔
اس بنیاد پر جو شخص اکثر سلائی کا کام کرتا ہے تم اسے دیکھو گے وہ اپنے سر کی طرف اشارہ کرتا ہے گویا وہ اپنی سوئی کو پکڑتا ہے تاکہ اس کے سلاتھ سلائی کرے اور اپنی انگلی کو تر کرتا ہے۔ اور چادر کو اوپر سے پکڑ کر بالشت سے ناپتا ہے گویا اس کا ناپ کرتا ہے پھر اپنا ہاتھ قینچی کی طرف بڑھاتا ہے۔
اور جو شخص چاہتا ہو کہ موت کے وقت اس کا خیال گناہوں اور خواہشات کی طرف نہ جائے اس کے لئے یہی راستہ ہے کہ وہ عرصہ داراز تک اپنے نفس کو ان سے دور رکھے سنتوں بھرے ماحول میں استقامت اختیار کرے اور دل سے شہوتوں کا قلع قمع کرے کہ بندے کو اسی کا اختیار ہے اور نیکی پر طویل عرصہ تک قائم رہنا اور فکر کو شر سے الگ رکھنا سکرات موت کی حالت کے لئے تیاری اور ذخیرہ ہے کیونکہ آدمی اسی حالت میں مرتا ہے جس پر زندگی گزارتا ہے۔
اسی لئے ایک سبزی فروش کے بارے میں منقول ہے کہ موت کے وقت اسے کلمہ شہادت کی تلقین کی گئی تو وہ کہنے لگا پانچ' چھ' چار' گویا وہ اس حساب میں مشغول تھا جس کے ساتھ وہ موت سے پہلے مانوس تھا۔
اسلاف(رضی اﷲ تعالیٰ عنہم) میں سے کسی عارف (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ)نے فرمایا عرش ایک جوہر ہے جو نور سے چمک رہا ہے جو بندہ جس حال پر ہوتا ہے اسی حالت میں اس کی صورت عرش پر منقش ہوتی ہے جب وہ سکراتِ موت کی حالت میں ہوتا ہے تو بعض اوقات اپنے آپ کو گناہ کی صورت میں دیکھتا ہے اسی طرح قیامت کے دن اس کے لئے انکشاف ہوگا اور وہ اپنے نفس کے احوال کو دیکھے گا تو اس وقت اسے جو حیا اور خوف ہوگا اسے بیان نہیں کیاجاسکتا۔ واقعی انہوں نے صحیح فرمایا۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!سچے خواب کا سبب بھی تقریباً ایسا ہی ہے کیونکہ سونے والا لوح محفوظ کو دیکھ کر اس بات کا ادراک کرتا ہے جو مستقبل میں پیش آنے والی ہے اور (سچا خواب) نبوت کے اجزا میں سے ایک جز ہے۔
تو برا خاتمہ دل کے احوال اور خلجان کی طرفِ لوٹتا ہے اور دلوں کو بدلنے والا تو اﷲ تعالیٰ ہے اور وہ اتفاقات جوبرے خیالات کا تقاضا کرتے ہیں وہ مکمل طور پر اختیار میں نہیں ہیں اگرچہ طویل انس والفت کی وجہ سے ایسے خیالات عادت بن جاتے ہیں اسی وجہ سے عارفین کو برے خاتمے کا بہت زیادہ خوف ہوتا ہے اس لئے اگر انسان ارادہ کرے کہ خواب میں نیک لوگوں کے احوال اور عبادات و اطاعت کے احوال دیکھے تو اس کے لئے یہ بات مشکل ہے اگرچہ نیکیوں کی کثرت اور ان پر مواظبت کے ذریعے ایسا ہونا ممکن ہے لیکن خیال کا بہک جانا مکمل طور پر کنٹرول میں نہیں اگرچہ عام طور پر یہی ہوتا ہے کہ خواب میں وہی چیز نظر آتی ہے جو حالتِ بیداری میں غالب ہوتی ہے حتی کہ امام غزالی علیہ الرحمۃ ارشاد فرماتے ہیں میں نے