اسے پسند کرتا ہے وہ اﷲ تعالیٰ کے ہاں اس غلام کی طرح حاضر ہورہا ہے جو آقا سے بغض رکھتا ہو اور بھاگا ہوا ہو اور اسے زبردستی لایا جارہا ہو اب وہ جس قدر ذلت اور سزا کا مستحق ہے وہ پوشیدہ نہیں ہے۔
لیکن جو شخص اﷲ تعالیٰ کی محبت پر انتقال کرتا ہے وہ بارگاہ خداوندی میں اس غلام کی طرح حاضر ہوتا ہے جونیکوکار اور اپنے آقا کا مشتاق ہے جس نے مشکل کام اور سفر کی مشقت اس سے ملاقات کی امید میں برداشت کی اب اسے جو خوشی حاصل ہوتی ہے وہ بھی مخفی نہیں ہے اور یہ تو محض حاضری اور ملاقات کی خوشی ہے اور جو طرح طرح کے انعام واکرام اسے ملتے ہیں وہ اس کے علاوہ ہیں۔
دوسری قسم کا خاتمہ پہلی قسم کے مقابلے میں ہلکا ہے اور اس سے ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں رہنا لازم نہیں آتا اور اس کے بھی دو سبب ہیں ۔
ایک گناہوں کی کثرت ہے اگرچہ ایمان مضبوط ہو اور دوسرا سبب ایمان کی کمزوری ہے اگرچہ گناہ کم ہوں کیونکہ گناہوں کے ارتکاب کا سبب خواہشات کا غلبہ اور دل میں ان کا راسخ ہوجانا ہے جس کی وجہ الفت اور عادت ہے۔ اور انسان اپنی زندگی میں جن جن چیزوں سے الفت رکھتا ہے موت کے وقت اس کے دل میں ان کا ذکر لوٹ آتا ہے اگر اس کے دل کا زیادہ میلان عبادت کی طرف ہو تو حالت نزع میں اس کے دل میں اﷲ تعالیٰ کی عبادت کی یاد زیادہ ہوتی ہے اور اگر اس کا زیادہ میلان گناہوں کی طرف ہو تو موت کے وقت اس کے دل میں گناہوں کی یاد ہوتی ہے پس جب اس کی روح قبض ہوتے وقت دنیاوی خواہش اور کسی گناہ کا غلبہ ہو تو دل اس کی قید میں ہوتا ہے اور وہ اﷲ تعالیٰ سے حجاب میں ہوتا ہے اور جو شخص کبھی کبھی گناہوں کا مرتکب ہوتا ہے وہ اس خطرے سے بہت دور ہوتا ہے اور جس پر گناہوں کا غلبہ ہو' عبادات کے مقابلے میں گناہ زیادہ ہوں اور عبادات کی نسبت گناہوں پر دل زیادہ خوش ہوتا ہو تو اس کے حق میں یہ بہت بڑا خطرہ ہے۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اس فلسفے کو امام غزالی علیہ الرحمۃ ایک مثال کے ذریعے واضح کررہے رہیں چنانچہ فرماتے ہیں ۔
ہم یہ بات ایک مثال کے ذریعے معلوم کرتے ہیں یعنی یہ بات واضح ہے کہ انسان اپنے خواب میں جو کچھ دیکھتا ہے وہ وہی ہوتا جو اُس نے زندگی کی کسی نہ کسی حالت میں دیکھا ہو یہاں تک کہ وہ قریب البلوغ بچہ جسے احتلا م آتا ہو خواب میں حالتِ جماع کو ملاحظہ نہیں کرتا جب تک اس نے بیداری کی حالت میں جماع کا مشاہدہ نہ کیا ہو اور اگر وہ ایک مدت تک اسی حالت میں رہے تو احتلام کے وقت اسے جماع کی صورت دکھائی نہیں دیتی۔
پھر یہ بات مخفی نہیں ہے کہ جس شخص نے اپنی زندگی فقہ میں گزاری ہو تو وہ علم و علماء سے متعلق احوال کو اس شخص سے