زنگ آلود ہوجاتا ہے اور جب موت کی سختیاں آنا شروع ہوتی ہیں تو دنیا کی یہ محبت بڑھ جاتی ہے کیونکہ اب اسے دنیا سے جدائی کا احساس ہوتا ہے اور یہی دنیا اس کا محبوب تھی جو دل پر غالب آچکی تھی تو دنیا سے جدائی کا سوچ کر اس کے دل کو تکلیف پہنچتی ہے اور وہ اسے اﷲ تعالیٰ کی طرف سے سمجھتا ہے لہٰذا جو موت اس کے سامنے آتی ہے اس کا دل اسے نا پسند کرتا ہے لیکن چونکہ یہ موت اﷲ تعالیٰ کی طرف سے آتی ہے تو اس بات کا ڈر ہوتا ہے کہ کہیں اس کے دل میں اس موت کی وجہ سے اﷲ تعالیٰ کے بارے میں محبت کے بجائے بُغض جوش نہ مارے۔معاذ اﷲ (عزوجل)
جیسے کوئی شخص اپنے بیٹے سے معمولی محبت کرتا ہو اور وہ لڑکا اس سے اس کا وہ مال لے جو اسے اولاد سے بھی زیادہ پسند ہو اوراُسے جلا دے تو یہ کمزور محبت' بغض میں بدل جاتی ہے ۔ تو اگر اس حالت میں انسان کی رُوح نکلے کہ اس کے دل میں اﷲتعالیٰ سے بغض کا خطرہ پیدا ہوا تو یہ برا خاتمہ ہے اور وہ مکمل طور پر ہلاک ہوگیا اور اس قسم کے خاتمہ تک جو سبب لے جاتا ہے وہ دنیاوی محبت کا غلبہ 'اس کی طرف جھکاؤ ہے نیز اس کے اسباب پر خوش ہونا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ایمان کی وہ کمزوری ہے جو اﷲ تعالیٰ کی محبت کو کم کرے۔لہٰذا جو شخص اپنے دل میں دنیا کی محبت کے مقابلے میں اﷲ تعالیٰ کی محبت کو زیادہ غالب پاتا ہے وہ اگرچہ دنیا سے بھی محبت کرتا ہو' وہ اس خطرے سے زیادہ دور ہوتا ہے۔
اور دنیا کی محبت ہر گناہ کی اصل ہے اور یہ ایسا لاعلاج مرض ہے جس میں ہر قسم کے لوگ مبتلا ہیں اور اس کی وجہ اﷲ تعالیٰ کی معرفت کی کمی ہے کیونکہ اﷲ (عزوجل) سے وہی محبت کرتا ہے جو اسے پہچانتا ہے اسی لئے اﷲ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا۔