Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
202 - 325
زنگ آلود ہوجاتا ہے اور جب موت کی سختیاں آنا شروع ہوتی ہیں تو دنیا کی یہ محبت بڑھ جاتی ہے کیونکہ اب اسے دنیا سے جدائی کا احساس ہوتا ہے اور یہی دنیا اس کا محبوب تھی جو دل پر غالب آچکی تھی تو دنیا سے جدائی کا سوچ کر اس کے دل کو تکلیف پہنچتی ہے اور وہ اسے اﷲ تعالیٰ کی طرف سے سمجھتا ہے لہٰذا جو موت اس کے سامنے آتی ہے اس کا دل اسے نا پسند کرتا ہے لیکن چونکہ یہ موت اﷲ تعالیٰ کی طرف سے آتی ہے تو اس بات کا ڈر ہوتا ہے کہ کہیں اس کے دل میں اس موت کی وجہ سے اﷲ تعالیٰ کے بارے میں محبت کے بجائے بُغض جوش نہ مارے۔معاذ اﷲ (عزوجل)

جیسے کوئی شخص اپنے بیٹے سے معمولی محبت کرتا ہو اور وہ لڑکا اس سے اس کا وہ مال لے جو اسے اولاد سے بھی زیادہ پسند ہو اوراُسے جلا دے تو یہ کمزور محبت' بغض میں بدل جاتی ہے ۔ تو اگر اس حالت میں انسان کی رُوح نکلے کہ اس کے دل میں اﷲتعالیٰ سے بغض کا خطرہ پیدا ہوا تو یہ برا خاتمہ ہے اور وہ مکمل طور پر ہلاک ہوگیا اور اس قسم کے خاتمہ تک جو سبب لے جاتا ہے وہ دنیاوی محبت کا غلبہ 'اس کی طرف جھکاؤ ہے نیز اس کے اسباب پر خوش ہونا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ایمان کی وہ کمزوری ہے جو اﷲ تعالیٰ کی محبت کو کم کرے۔لہٰذا جو شخص اپنے دل میں دنیا کی محبت کے مقابلے میں اﷲ تعالیٰ کی محبت کو زیادہ غالب پاتا ہے وہ اگرچہ دنیا سے بھی محبت کرتا ہو' وہ اس خطرے سے زیادہ دور ہوتا ہے۔

اور دنیا کی محبت ہر گناہ کی اصل ہے اور یہ ایسا لاعلاج مرض ہے جس میں ہر قسم کے لوگ مبتلا ہیں اور اس کی وجہ اﷲ تعالیٰ کی معرفت کی کمی ہے کیونکہ اﷲ (عزوجل) سے وہی محبت کرتا ہے جو اسے پہچانتا ہے اسی لئے اﷲ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا۔
قُلْ اِنۡ کَانَ اٰبَآؤُکُمْ وَاَبْنَآؤُکُمْ وَ اِخْوَانُکُمْ وَاَزْوَاجُکُمْ وَعَشِیۡرَتُکُمْ وَ اَمْوَالُۨ اقْتَرَفْتُمُوۡہَا وَتِجَارَۃٌ تَخْشَوْنَ کَسَادَہَا وَمَسٰکِنُ تَرْضَوْنَہَاۤ اَحَبَّ اِلَیۡکُمۡ مِّنَ اللہِ وَرَسُوۡلِہٖ وَجِہَادٍ فِیۡ سَبِیۡلِہٖ فَتَرَبَّصُوۡا حَتّٰی یَاۡتِیَ اللہُ بِاَمْرِہٖ ؕ
''آپ فرما دیجئے (اے لوگو!) اگر تمہارے باپ دادا اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارا خاندان اور وہ مال جو تم نے کمایا اور وہ تجارت جس کے نقصان کا تمہیں ڈرھے اور وہ مکانات جن کو تم پسند کرتے ہو تمہیں اﷲ تعالیٰ' اور اس کے رسول اور اس کے راستے میں جہاد سے زیادہ پسند ہیں تو انتظار کرو حتی کہ اﷲ تعالیٰ اپنا حکم لے آئے۔'' (سوره توبہ آیت ۲۴)

تو نتیجہ یہ ہوا کہ جس شخص کی روح دنیا سے اس طرح جاتی ہے کہ اس کے دل میں اﷲ تعالیٰ کے انکار کا خطرہ ہو اور اﷲ تعالیٰ کے اس عمل (موت) کو دل سے برا سمجھتا ہو کہ اس نے اس کے اور اس کے اہل ومال اور تمام محبوب چیزوں کے درمیان تفریق ڈال دی تو اس کی موت یوں واقع ہوتی ہے کہ جدھر وہ جارہا ہے اسے ناپسند کرتا ہے اور جس سے جدا ہورہا ہے
Flag Counter