''جب دن اچھے گزرے تو تُونے زمانے کے بارے میں اچھا گمان کیا اور آنے والی چھپی ہوئی بُرائی سے تو نے خوف نہ کھایا ۔
راتوں نے تجھے سلامت رکھا تو تجھے ان کی وجہ سے دھوکہ ہوا اور جب راتیں صاف ہوں تو گدلا پن آجاتا ہے۔''
اور جان لو کہ جو شخص اﷲ تعالیٰ' اس کے رسول ااور کتابوں پر خالص ایمان نہیں رکھتا اور بحث میں پڑتا ہے وہ اپنے آپ کو اس خطرے کے لئے پیش کرتا ہے اور اس کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس کی کشتی ٹوٹ جائے اور وہ موجوں کی نذر ہوجائے ایک موج اسے دوسری موج کی طرف پھینک دے بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ وہ اسے ساحل کی طرف پھینک دیتی ہے لیکن یہ بہت بعید بات ہے اور ہلاکت کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
اور جو لوگ دوسروں سے عقیدہ لیتے ہیں جہنوں نے عقل کے ذریعے اس میں بحث کی تو اس کی دو صورتیں ہیں ۔
(۱)یا تو وہ دلائل کے ساتھ ہے جو انہوں نے نقل کئے اور اس میں ان کا تعصب شامل ہے (۲) دلیل کے بغیر ہیں
چنانچہ اگر اسے اس میں شک ہے تو اس سے دین فاسد ہوجاتا ہے اور اگر اسے اس پر یقین ہے تو وہ اﷲ تعالیٰ کی خفیہ تدبیر سے بے خوف ہے اور اپنی ناقص عقل کے دھوکے میں پڑا ہوا ہے اور جو شخص بھی کسی بحث میں پڑتا ہے وہ ان دو حالتوں سے خالی نہیں ہوتاالبتہ جو شخص عقل کی حد سے گزر کر اس نور کی طرف چلے جو عالم ولایت ونبوت میں چمکتا ہے تو اس سے اچھی اور کیا بات ہوسکتی ہے یہ تو سرخ سونے سے بہتر ہے لیکن ایسا ان لوگوں کو بھلا کب نصیب ہوسکتا ہے ۔
ہاں سادہ لوح مسلمان اس خطرے سے محفوظ ہیں یا جن لوگوں کو جہنم کے خوف نے اﷲ تعالیٰ کی اطاعت میں مشغول کردیا اور وہ ان فضول باتوں میں مشغول نہیں ہوتے ۔۔۔۔۔۔ تو یہ برے خاتمے کے خطرے سے متعلق ایک سبب ہے۔