''جنت میں جانے والے زیادہ لوگ سیدھے سادے ہوں گے۔'' (مجمع الزوائد جلد ۸'۹ ص ۷۹ کتاب الاعرب)
اسی لئے بزرگوں نے بحث ونظر اور کلام میں غور وخوض نیز ان امور میں تفتیش سے منع فرمایا اور لوگوں کو حکم دیا کہ جو کچھ اﷲ تعالیٰ نے نازل کیا اس سب پر ایمان لائیں اور بس اور جو کچھ ظاہر میں سمجھ آتا ہے اس پر بھی ایمان لائیں اور یہ اعتقاد رکھیں کہ کوئی بھی اﷲ تعالیٰ کے مشابہ نہیں ہے۔
لوگوں کو تاویل میں غور وفکر کرنے سے روکا گیا ہے کیونکہ صفاتِ خداوندی (عزوجل) میں بحث کرنے سے بہت بڑے خطرے کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس کی گھاٹیاں سخت اور راستے دشوار گزار ہیں اور عقلیں اﷲ تعالیٰ کے جلال کا ادراک کرنے سے قاصر ہیں اور چونکہ دل محبتِ دنیا پر پیدا کئے گئے ہیں اس لئے نور یقین سے ملنی والی ہدایت ان سے دور ہے اور جو کچھ بحث کرنے والے کہتے ہیں وہ ایک دوسرے کے خلاف ہے اور دل انہی باتوں کی طرف مائل ہوتے ہیں جو ابتدائے نشوونما میں ان میں ڈالی جاتی ہیں اور مخلوق کے درمیان جو تعصبات پھیلے ہوئے ہیں وہ موروثی عقائد کی مضبوط جڑیں ہیں یا اول اول مسلمانوں سے حسن ظن کے طور پر لئے گئے ہیں پھر طبیعتیں دنیا کی محبت میں مصروف و مشغول ہیں لہٰذا یہ مشغولیت ان کو مکمل طور پر سوچ وبچار کرنے نہیں د یتی۔
پس جب اﷲ تعالیٰ کی ذات اور صفات کے سلسلے میں رائے اور عقل کے ساتھ کلام کا دروازہ کھلتا ہے اور طبیعتوں کا اختلاف بھی موجود ہے نیز ہر جاہل اس بات کی حرص رکھتا ہے کہ وہ کمال اور حق کی گہرائی کا احاطہ کرنے کا دعویٰ کرے تو جس کو جو سمجھ آتی ہے بول پڑتا ہے اور جو شخص جس بات کو سنتا ہے اسی کا معتقد ہوجاتا ہے اور ان کی باہمی الفت کی وجہ سے یہ عقیدہ پکا ہوجاتا ہے اور اب نکلنے کی کوئی صورت باقی نہیں رہتی۔ لہٰذا سلامتی اسی میں ہے کہ لوگ اچھے اعمال میں مشغول ہوں اور جو کچھ ان کی طاقت کی حد سے باہر ہے اس کے پیچھے نہ پڑیں۔
لیکن افسوس اب تو لگام ڈھیلی پڑ گئی اور بیہودگی پھیل گئی اور ہر جاہل اس بات کی طرف اتر آیا جو ظن اور گمان کے اعتبار سے اس کی طبیعت کے موافق ہے اور وہ اسے ہی علم اور یقینی بات سمجھتا ہے اور اس کے خیال میں یہی خالص ایمان ہے اور اس کا گمان یہ ہے کہ یہ جو کچھ اندازے اور تحمینے سے کہا گیا ہے یہی علم الیقین اور عین الیقین ہے حالانکہ کچھ دن بعد اسے اس کا علم ہو جائے گا اور پردہ اٹھنے کے بعد ان لوگوں کے بارے میں یہ شعر پڑھنا زیادہ مناسب ہے۔