| فیضانِ اِحیاءُ العُلوم |
نیز تمام عقائد صحیحہ اور فاسد عقیدے میں فرق نہیں کرتا پس بعض مبنی پر جہالت اعتقادات کا انکشاف ہونے پر بقیہ صحیح عقائدکا بھی انکار کر بیٹھتا ہے یا کـم از کم اُس میں شک کرنے لگتا ہے ۔ اب اگر ایسی حالت میں روح پرواز کرتی ہے اور وہ اصل ایمان کی طرف نہیں لوٹتا تو اس کا خاتمہ برا ہوتا ہے اور اس کی روح شرک پر نکلتی ہے ہم اﷲ تعالیٰ کی پناہ چاہتے ہیں اس ارشاد خداوندی سے یہی لوگ مراد ہیں۔
وَ بَدَا لَہُمۡ مِّنَ اللہِ مَا لَمْ یَکُوۡنُوۡا یَحْتَسِبُوۡنَ
ترجمہ کنز الایمان: اور انہیں اللہ کی طرف سے وہ بات ظاہر ہوئی جو انکے خیال میں نہ تھی۔ ( سوره زمر ۴۷) اور ارشاد خداوندی ہے۔
قُلْ ہَلْ نُنَبِّئُکُمْ بِالْاَخْسَرِیۡنَ اَعْمَالًا ﴿۱۰۳﴾ؕاَلَّذِیۡنَ ضَلَّ سَعْیُہُمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَ ہُمْ یَحْسَبُوۡنَ اَنَّہُمْ یُحْسِنُوۡنَ صُنْعًا ﴿۱۰۴﴾
ترجمہ کنز الایمان: '' تم فرماؤکیا ہم تمہیں بتا دیں کہ سب سے بڑھ کر ناقص عمل کن کے ہیں ان کے جن ساری کوشش دنیا کی زندگی میں گم ہو گئی اور وہ اس خیال میں ہے کہ ہم اچھا کام کر رہے ہیں۔'' (پارہ ۱۶ الکہف آیت۱۰۳) اور جس طرح نیندکی حالت میں مستقبل میں پیش آنے والے امور منکشف ہوتے ہیں کیونکہ اس وقت دل پر دنیاوی مشغولیت کابوجھ کم ہوتا ہے اسی طرح سکراتِ موت کی حالت میں بعض امور واضح ہوتے ہیں کیونکہ دنیاوی مشاغل اور بدن کی خواہشات دل کو ملکوت کی طرف دیکھنے سے مانع تھیں لہٰذا اب وہ لوحِ محفوظ میں جو کچھ لکھا ہے اس کا مطالعہ کرتا ہے تاکہ وہ امور اپنی اصل حقیقت کے ساتھ منکشف ہوجائیں تو اس قسم کی حالت کشف کا سبب بنتی ہے اور یہ کشف باقی اعتقادات میں شک کا سبب بنتا ہے۔ تو جو شخص تقلیدی طور پر یا رائے اور عقل کے ذریعے اﷲ تعالیٰ اور اس کی صفات وافعال کے بارے میں خلافِ حقیقت اعتقاد رکھتا ہے اسے اس خطرے کا سامنا ہوتا ہے نیز زہد اور نیک اعمال اس خطرے کو دور کرنے کے لئے کافی نہیں ہیں بلکہ اس سے نجات کے لئے سچے عقیدے کی ضرورت ہے۔ اور بھولے بھالے آدمی اس خطرے سے دور ہیں یعنی وہ لوگ جو اﷲ تعالیٰ' اس کے رسول صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم اور آخرت پر مجمل لیکن مضبوط ایمان لائے جس طرح دیہاتی' جنگلوں میں رہنے والے اور عام لوگ جو بحث مباحثہ میں نہیں پڑتے نہ کلام کا آغاز کرتے ہیں اور نہ ہی متکلمین کے مختلف اقوال کی تقلید میں ان کی باتوں پر کان دھرتے ہیں۔ اسی لئے نبی اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا۔