Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
198 - 325
اور گواہوں کی ایک جماعت کے سامنے قیامت کے دن کی رُسوائی ہے۔ (مسند امام احمد بن حنبل جلد ۲ ص ۲۶ مرویات ابن عمر) اس کے بعد پل صراط کا خطرہ ہے۔ (صحیح بخاری جلد ۲ ص۹۷۳ مرویات ابن عمر کتاب الرقاق) اور دوزخ کے فرشتوں کی مصیبت وسختی۔ (کنز العال جلد ۱۰ ص ۱۹۱ حدیث ۲۹۰۰۵) اور وہ تمام امور جو احادیث میں مذکور ہیں۔

تو بدبخت آدمی طرح طرح کے عذابوں میں رہتا ہے مگر یہ کہ اﷲ تعالیٰ اسے اپنی رحمت سے ڈھانپ لے اور تمہیں یہ گمان نہیں کرنا چاہئے کہ محلِ ایمان یعنی دل کو تو مٹی کھا جاتی ہے بلکہ مٹی تمام ظاہری اعضاء کو کھا کر جدا جدا کردیتی ہے یہاں تک کہ مقرر وقت آپہنچے تو تمام متفرق اجزاء جمع ہوجائیں گے اور ان کی طرف روح لوٹ آئے گی جو محل ایمان ہے اور یہ روح وقت موت سے لوٹنے تک موجود رہتی ہے یا تو ان سبز پرندوں کے پوٹوں میں ہوتی ہے جو عرش کے نیچے لٹک رہے ہیں اگر وہ نیک بخت ہے اور اگر بدبخت ہے تو اس کے خلاف کسی بری حالت میں ہوتی ہے' ہم اﷲ تعالیٰ کی پناہ چاہتے ہیں۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یہاں ایک بہت ہی اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ برے خاتمے کی طرف لے جانے والے اسباب کون کون سے ہیں؟

اس کاجواب امام غزالی علیہ الرحمۃ کچھ اس طرح ارشاد فرماتے ہیں جان لو! ان امور کے اسباب کا احاطہ تفصیلی طور پر ممکن نہیں البتہ اجمالی طور پر اشارہ کیا جاسکتا ہے ۔ 

چنانچہ جہاں تک شک اور انکار کی صورت میں خاتمے کا تعلق ہے تو اس کا سبب دو باتوں میں منحصر ہے۔ ایک وہ ہے جو مکمل پرہیز گاری اور اعمال کی درستگی کے باوجود متصور ہوتا ہے جیسے بدعتی زاہد' اس کا خاتمہ بہت خطرے میں ہے اگرچہ اس کے اعمال اچھے ہوں ۔۔۔۔۔۔ اس سے ہماری مراد کوئی خاص مذہب نہیں جسے بدعت قرار دیں کیونکہ اس کا بیان بہت طویل ہے بلکہ بدعت سے مراد اﷲ تعالیٰ کی ذات' صفات اور افعال میں خلافِ حق عقیدہ رکھنا ہے خواہ یہ عقیدہ اس کی اپنی رائے سے ہو یاکسی ایسے شخص کی پیروی میں عقیدہ بنائے جو خود گمراہ ہو ۔

چنانچہ جب موت قریب آتی ہے اور ملک الموت ں کی پیشانی اس کے سامنے ظاہر ہوتی ہے اور دل اپنے تمام خیالات سمیت بدلتا ہے تو بعض اوقات حالت سکرات موت میں اس کے سامنے اس عقیدے کا بطلان منکشف ہوتا ہے جسے اس نے جہالت کی وجہ سے اختیار کر رکھا تھا کیونکہ موت کی حالت پر دہ اٹھنے کی حالت ہے اوراس وقت بعض امور واضح ہوجاتے ہیں پس جب اس کا عقیدہ باطل ہوجاتا ہے اور اس سے پہلے وہ اس پر یقین رکھتا اور اسے قطعی سمجھتا تھا تو وہ یہ گمان نہیں کرتا کہ اس سے خاص اس عقیدے میں خطا ہوئی ہے جس کا دارو مدار اس کی فاسد رائے اور عقل ناقص پر تھا بلکہ اس کے خیال میں اس کے تمام عقائد بے اصل ہوجاتے ہیں کیونکہ وہ اﷲ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم پر ایمان