| فیضانِ اِحیاءُ العُلوم |
''بندئہ مومن دو خوفوں کے درمیان رہتا ہے اُس گھڑی کے بارے میں جس میں اﷲ تعالیٰ نے اُس کے لئے نہ جانے کیا فیصلہ فرمایا اور اس وقت کے بارے میں کہ اُسے معلوم نہیں اﷲ (عزوجل) اُس کے بارے میں کیا فیصلہ فرمائے ۔تو اُس ذات کی قسم کہ جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ۔موت کے بعد کوئی عمل نہیں اور دنیا کے بعد جنت یا دوزخ کے سوا کہیں اور ٹھکانہ نہیں ۔''
فصل نمبر ۷
بُرے خاتمہ کا مفہوممیٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اس مقام پر امام غزالی علیہ الرحمۃ بُرے خاتمے کو سمجھانے کیلئے کچھ اس طرح رقم طراز ہیں۔ برے خاتمے کے دو مرتبے ہیں ان میں سے ایک دوسرے سے بڑا ہے۔ بڑا رتبہ : بڑا اور پریشان کن رتبہ یہ ہے کہ موت کی سختیوں اور اس کی ہولناکیوں کے ظہور کے وقت شک یا انکار پایا جائے اوراسی انکار یا شک کے غلبہ کی حالت میں روح قبض ہو اور اس انکار کی وجہ سے جو دل پر غالب ہوگیا بندے اور اﷲ تعالیٰ کے درمیان حجاب پیدا ہوجاتا ہے اور یہ حجاب دائمی بعد اور ہمیشہ کے عذاب کا باعث بن جاتا ہے ۔ چھوٹا رتبہ : برے خاتمہ کا دوسرا مرتبہ پہلے سے کم ہے اور وہ موت کے وقت دل پر امور دنیا میں سے کسی امر کی محبت یا کسی خواہش کا غالب آنا ہے اب یہ بات دل میں بیٹھ جاتی ہے اور اسے گھیر لیتی ہے حتی کہ اس حالت میں کسی دوسری چیز کی گنجائش باقی نہیں رہتی ہے اور اسی حالت میں روح پرواز کرجاتی ہے اب اس کے دل کا استغراق یوں ہوتا ہے کہ اس کا دل دنیا کی طرف جھکا ہوا ہوتا ہے اور اس کا رخ بھی ادھر ہی ہوتا ہے اور جب اﷲ تعالیٰ کی طرف سے رخ پھر جائے تو حجاب پیدا ہوجاتا ہے اور جب حجاب پیدا ہو تو عذاب نازل ہوتا ہے کیونکہ اﷲ تعالیٰ کی جلانے والی آگ انہی لوگوں کو پکڑتی ہے جو اس سے پردے میں ہوتے ہیں لیکن وہ مومن جس کا دل دنیا کی محبت سے محفوظ ہو اور اس کی تمام ترتوجہ اﷲ تعالیٰ کی طرف ہو اس سے جہنم کی آگ کہتی ہے اے مومن ! دور ہو جاتیرے نور نے میری لپٹ کو بجھا دیا ہے۔
چنانچہ جب روح کا قبض ہونا ایسی حالت میں ہو کہ اس پر دنیا کی محبت غالب ہو تو معاملہ خطرناک ہوتا ہے کیونکہ آدمی اسی حالت پر مرتا ہے جس پر وہ زندہ تھا اور موت کے بعد دل میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی آنا ممکن نہیں کیونکہ دل بدلنا اعضاء کے عمل کے ذریعے ہوتا ہے اور جب موت کے ذریعے اعضاء ساکت ہوگئے تو اعمال بھی رک گئے لہٰذا اب کسی عمل کی گنجائش باقی نہیں اور دنیا میں واپسی کی بھی کوئی امید نہیں لہٰذا اس وقت بہت زیادہ حسرت ہوتی ہے۔ البتہ جب اصل ایمان اور اﷲ تعالیٰ کی محبت ایک طویل مدت تک دل میں راسخ ہوچکی ہو اور اچھے اعمال کے ساتھ پکی ہو گئی ہو تو وہ موت کے وقت پیش آنے والی اس حالت کو مٹا دیتی ہے اگر اس کا ایمان ایک مثقال کے برابر بھی ہو تو وہ بھی اس کو جلد ہی آگ سے نکال دیتا ہے اور اگر اس سے کم ہو تو وہ جہنم میں زیادہ مدت تک ٹھہرتا ہے اور اگر دانے کے برابر بھی ہو تو وہ اسے ضرور بضرور جہنم سے نکالے گا اگرچہ کئی ہزار سال کے بعد ہو۔ میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جو کچھ آپ نے ذکر کیا ہے اس کا تقاضا تو یہ ہے کہ موت کے فوراً بعد آگ اس تک پہنچ جائے تو اسے قیامت تک مؤخر کرنے اور طویل عرصہ تک مہلت دینے کا کیا فائدہ ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اُسے عذاب قبر دینے کیلئے اتنی مہلت دی جاتی ہے اور جو شخص عذاب قبر کا منکر ہے وہ بدعتی ہے اور اﷲ تعالیٰ کے نور سے پردے میں ہے بلکہ نور قرآن اور نورِ ایمان سے بھی حجاب میں ہے کیونکہ اصحابِ بصیرت کے نزدیک صحیح بات وہ ہے جو صحیح احادیث سے ثابت ہے۔ وہ یہ ہے ۔