Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
195 - 325
خلاف باتیں کرتے ہوئے سنا تو پوچھا بتاؤ کیا حجاج کی موجودگی میں بھی تم ایسی گفتگو کرتے؟ اس نے جواب دیا نہیں۔ فرمایا ہم عہد رسالت علی صاحبہا الصلٰوۃ والسلام میں اس قسم کی باتوں کو منافقت سمجھتے تھے۔

اس سے بھی زیادہ سخت بات یہ ہے کہ کچھ لوگ حضرت سیدنا حذیفہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے دروازے پر بیٹھ کر ان کا انتظار کر رہے تھے اور وہ آپ صکے بارے میں کچھ باتیں بھی کرتے تھے جب آپ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) باہر تشریف لائے تو آپ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) سے حیا کرتے ہوئے وہ لوگ خاموش ہوگئے آپ صنے فرمایا اپنی گفتگو جاری رکھو لیکن وہ خاموش رہے اس پر آپ صنے فرمایا اس قسم کے عمل کو ہم عہدِرسالت امیں منافقت شمار کرتے تھے۔
دل کی تبدیلیاں :
اور یہ حضرت سیدنا حذیفہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ منافقین اور اسباب نفاق کے علم کے ماہر تھے اور آپ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرمایا کرتے تھے کہ دل پر ایک ایسی گھڑی آتی ہے کہ وہ ایمان سے بھرجاتا ہے حتی کہ اس میں سوئی کے سوراخ جتنی جگہ بھی نفاق کے لئے نہیں رہتی اور اس پر ایک ساعت ایسی آتی ہے کہ وہ منافقت سے بھرجاتا ہے اور اس میں سوئی کے سوراخ جتنی جگہ بھی ایمان کے لئے باقی نہیں رہتی۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!سیدنا امام غزالی (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) مزید ارشاد فرماتے ہیں کہ اس سے تمہیں معلوم ہوگیا ہوگاکہ عارفین کو برے خاتمے کا خوف ہوتا ہے اور اس کا سبب خاتمے سے پہلے پائے جانے والے کچھ اسباب ہوتے ہیں جن میں بدعت' گناہ اور منافقت شامل ہے اور ان باتوں سے کوئی شخص کب خالی ہوسکتا ہے اور اگر کوئی شخص یہ گمان کرتا ہے کہ وہ ان باتوں سے خالی ہے تو یہ بھی منافقت ہے کیونکہ کہا گیا ہے کہ جو شخص منافقت سے بے خوف ہو وہ بھی منافق ہے۔

جیسا کہ کسی شخص نے ایک عارف سے کہا کہ مجھے اپنے نفس پر منافقت کا خوف ہے انہوں نے فرمایاــ اگر تم منافق ہوتے تو تمہیں منافقت کا خوف نہ ہوتا تو عارف ہمیشہ اپنے بارے میں کئے گئے ازلی فیصلے اور خاتمے کی طرف متوجہ رہتا ہے کیونکہ اسے ان دونوں کا خوف ہوتا ہے۔

اسی لئے نبی اکرم 'تاجدارِ عرب و عجم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا۔
الْعَبْدُ الْمُؤْمِنُ بَیْنَ مَخَافَتَیْنِ بَیْنِ اَجَلٍ قَدْ مَضَی لاَیَدْرِیْ مَا االلہُ صَانِعٌ فِیْہِ

وَبَیْنَ اَجَلٍ قَدْ بَقِیَ لاَ یَدْرِیْ مَا االلہُ مَاضٍ فِیْہِ فَوَ الَّذِیْ نَفْسِی بِیَدِہِ مَا بَعْدَ

الْمَوْتِ مِنْ مُسْتَعْتَبٍ وَلاَ بَعْدَ الدُّنْیَا مِنْ دَارٍ اِلاَّ الْجَنَّۃُ اَوِ النَّارُ۔

(کتاب الزھد والرقائق ص ۱۰۲ حدیث ۳۰۴ / الفردوس بماثور الخطاب جلد ۳ ص ۹۳ حدیث ۴۲۶۱)
Flag Counter