| فیضانِ اِحیاءُ العُلوم |
کہ اسے چھوڑ دے جو بات کرتے وقت جھوٹ بولے وعدہ کرے تو اسے پورانہ کرے اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرتا ہے اور جب جھگڑا ہو تو گالی گلوچ سے کام لیتا ہے۔'' اور دوسری حدیث میں یہ الفاظ ہیں۔
وَاِذَا عَاھَدَ غَدَرَ۔
''اور جب وعدہ کرتا ہے تو دھوکہ دیتا ہے۔'' میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!صحابہ کرام رضی اﷲ تعالیٰ عنہم نے منافقت کی مختلف تفاسیر کی ہیں صدیقین کے علاوہ دوسرے لوگوں میں ان میں سے کوئی نہ کوئی بات ضرور پائی جاتی ہے ۔حضرت سیدنا حسن بصری رحمہ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں ظاہر وباطن کا اختلاف زبان اور دل کا اختلاف' دخول و خروج کا اختلاف منافقت میں سے ہے اور ان باتوں سے کون خالی ہے بلکہ یہ کام لوگوں کے درمیان بطور عادت پختہ بن گئے ہیں۔ اور ان کو مکمل طور پر کوئی بھی برا نہیں جانتا بلکہ یہ کام لوگوں میں زمانہ نبوت کے قریب ہی جاری ہوگئے تھے تو ہمارے زمانے کے بارے میں کیا گمان ہوگا ؟ حتی کہ حضرت سیدنا حذیفہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا۔ زمانہ نبوت میں کوئی شخص ایک بات کہنے سے منافق مشہور ہوجاتا تھا لیکن آج میں وہی بات گیارہ مرتبہ سنتا ہوں۔ (مسند امام احمد بن حنبل جلد ۵ ص ۳۹ مرویات حذیفہ) اور صحابہ کرام علیہم الرضوان فرمایا کرتے تھے کہ تم بعض اعمال کو جانتے ہو جو تمہاری نگاہ میں بال سے زیادہ باریک اور معمولی ہیں لیکن ہم رسول اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کے عہد میں ان باتوں کو گناہ کبیرہ میں سے سمجھتے تھے۔
نفاق کی بعض علامتیں :
بعض بزرگوں رحمہم اﷲنے فرمایا منافقت کی علامت یہ ہے کہ تم' لوگوں سے اس بات کو ناپسند کرو جس کا خود ارتکاب کرتے ہو اور تم ظلم میں سے کسی چیز کو پسند کرو اور حق میں سے کسی بات کو ناپسند کرو اور کہا گیا ہے کہ نفاق میں سے ایک بات یہ ہے کہ جب کسی آدمی کی تعریف اس بات پر کی جائے جو اس میں نہیں ہے تو وہ اس پر خوش ہو حضرت سیدنا ابن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما کی خدمت میں ایک شخص نے عرض کیا کہ ہم ان امراء کے پاس جاتے ہیں تو ان کی باتوں کی تصدیق کرتے ہیں اور جب ہم وہاں سے نکلتے ہیں تو ان کے بارے میں کلام کرتے ہیں آپ ( رضی اﷲ عنہُ)نے فرمایا رسول اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کے زمانے میں ہم ان باتوں کو منافقت خیال کرتے تھے۔ (صحیح بخاری جلد ۲ ص ۹۶۱ کتاب الرقاق) اسی طرح ایک روایت میں ہے کہ حضرت سیدنا ابن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما نے ایک شخص کو حجاج بن یوسف کے