| فیضانِ اِحیاءُ العُلوم |
میں اسلام پر موت کو ترجیح دوں گا کیونکہ مجھے معلوم نہیں کہ حجرے کے دروازے اور حویلی کے دروازے کے درمیان میرے دل کی کیا کیفیت ہوجائے۔ حضرت سیدنا ابو درداء( رضی اﷲ عنہُ) فرماتے ہیں جو شخص موت کے وقت ایمان کے سلب ہوجانے سے بے خوف ہو اس کا ایمان سلب ہوجاتا ہے۔ اور حضرت سیدنا سہل رحمہ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں صدیقین کا خوف یہ ہے کہ وہ ہر خطرے اور ہر حرکت کے وقت برے خاتمے سے ڈرتے ہیں اور انہی لوگوں کا وصف اﷲ تعالیٰ نے یوں بیان فرمایا۔
وَّ قُلُوۡبُہُمْ وَ جِلَۃٌ
جب حضرت سیدنا سفیان رحمہ اﷲ تعالیٰ کے وصال کا وقت آیا تو انہوں نے رونا اور چیخنا شروع کردیا ان سے کہا گیا کہ اے ابو عبد اﷲ ص! آپ کو اﷲ تعالیٰ پر امید رکھنی چاہئے بے شک اﷲ تعالیٰ سے امید آپ صکے گناہوں سے بھی بڑی ہے انہوں نے فرمایا کیا میں اپنے گناہوں پر روتا ہوں ؟ اگر مجھے معلوم ہو کہ میری موت عقیدئہ توحید پر آئے گی تو مجھے کوئی پرواہ نہیں اگرچہ میں پہاڑوں کے برابر گناہوں کے ساتھ اﷲ تعالیٰ سے ملاقات کروں۔
بادام اور شکر:
خوف کھانے والے کسی بزرگ رحمہ اﷲکے بارے میں بیان کیا گیا کہ انہوں نے اپنے ایک بھائی کو وصیت کرتے ہوئے کہا کہ جب میری وفات ہوجائے تو تم میرے سرہانے بیٹھ جانا اگر تم دیکھو کہ میری رُوح توحید پر پرواز کر گئی تو میرا تمام مال لے کر اس سے بادام اور شکر لے کر شہر کے بچوں میں تقسیم کردینا اور کہنا کہ یہ قید سے چھوٹنے والے فلاں شخص کی طرف سے شیرینی ہے اور اگر میں توحید پر نہ مروں تو لوگوں کو بتادینا تاکہ وہ دھوکے سے میرے جنازے میں شریک نہ ہوں اور وہی شخص جنازے میں آئے جو بصیرت کے ساتھ آنا چاہے اور مجھے وفات کے بعد ریا کاری لاحق نہ ہو اس نے پوچھا توحید کی علامت کیا ہوگی ؟ ان بزرگ رحمہ اﷲنے اسے ایک علامت بتائی چنانچہ اس شخص نے ان کی وفات کے وقت وہ علامت دیکھی اور شکر اور بادام خرید کر تقسیم کئے۔
کفر کا خوف :
اسی طر ح حضرت سیدنا سہیل رحمہ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں مرید کو گناہوں میں مبتلا ہونے کا ڈر ہوتا ہے جب کہ عارف کو کفر میں ابتلاء کا خوف ہوتا ہے اور حضرت سیدنا ابو یزید رحمہ اﷲ تعالیٰ فرمایا کرتے تھے جب میں مسجد کی طرف جاتا ہوں تو گویا
(سورہ مومنون آیت ۶۰)