تو جو قول ازل میں ثابت ہوچکا ہے اس کا خوف کیسے نہ کیا جائے اب تو سوائے تسلیم کے کوئی چارہ نہیں اور بندہ صرف یہی کرسکتا ہے کہ اپنے بارے میں ہونے والے ازلی فیصلے کے اثرات کو اپنے اعضاء پر ظاہر ہونے والے اثر میں تلاش کرے ۔پس جس کے لئے اسباب شر آسان ہوجائیں اور وہ بندے اور نیکی کے درمیان حائل ہوجائیں اور دنیا کے ساتھ اس کا تعلق مضبوط ہوجائے گویا اس کے لئے حقیقتاً ازلی فیصلہ جو کہ راز تھا منکشف ہوگیا جو اس کی بدبختی کو ظاہر کررہا ہے۔
کیونکہ جس شخص کو جس کام کے لئے پیدا کیا گیا وہ کام اس کے لئے آسان کردیا گیا اور اگر ہر قسم کی نیکی آسان کردی گئی ہو اور دل مکمل طور پر دنیا سے قطع تعلق کرچکا ہو اور وہ ظاہری طور پر اﷲ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو تو یہ بات تحفیفِ خوف کا تقاضا کرتی ہے اگر اس پر دائمی یقین ہولیکن ایک ہی حال پر جما رہنا مشکل ہے اور خاتمے کا خطرہ خوف کی آگ کو شعلہ زن کرتا ہے اور اسے بھجانا ممکن نہیں اور حال کی تبدیلی سے بے خوفی کیسے ہوسکتی ہے جب کہ مومن کا دل رحمن (عزوجل) کی دو انگلیوں کے درمیان ہے (کنٹرول میں ہے) اور دل تو ہنڈیا کے جوش مارنے سے بھی زیادہ الٹ پلٹ ہوتا ہے اور دلوں کو پھیرنے والے نے ارشاد فرمایا۔