| فیضانِ اِحیاءُ العُلوم |
ہے تجھے مجھے روا نہیں کہ وہ بات کہوں جو مجھے نہیں پہنچتی اگر میں نے ایسا کہا ہو تو ضرور تجھے معلوم ہوگا تو جانتا ہے جو میرے جی میں ہے اور میں نہیں جانتا جو تیرے علم میں ہے '' (پارہ۷ ' سوره مائدہ' آیت ۱۱۶) اور ارشاد فرمایا ۔
اِنۡ تُعَذِّبْہُمْ فَاِنَّہُمْ عِبَادُکَ ۚ وَ اِنۡ تَغْفِرْ لَہُمْ فَاِنَّکَ اَنۡتَ الْعَزِیۡزُ الْحَکِیۡمُ ﴿۱۱۸﴾
ترجمہ : کنز الایمان''اگر تو انہیں عذاب کرے تو وہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انہیں بخش دے تو بیشک تو ہی ہے غالب حکمت والا '' ۔ (پارہ ۷' سوره مائدہ' ۱۱۸) توآپ (علیہ السلام)نے اس معاملے کو اﷲ تعالیٰ کی مشیت کے سپرد کردیا اور اپنے آپ کو درمیان سے مکمل طور پر باہر نکال دیا کیونکہ آپ ں جانتے تھے کہ (بخشش اور عذاب میں سے) کوئی بات آپ(علیہ السلام) کے اختیار میں نہیں اور بے شک اُمور مشیتِ خداوندی سے اس طرح جڑے ہوئے ہیں کہ عقل سے ان کا کوئی تعلق نہیں لہٰذا ان پر قیاس اور وہم و گمان سے بھی کوئی حکم نہیں لگایا جاسکتا تحقیق اور یقین تو ایک طرف رہے۔
قیامت کبریٰ :
اسی بات نے عارفین کے دل توڑ دیئے کیونکہ قیامت کبریٰ یہ ہے کہ تمہارا معاملہ اس ذات کی مشیّت سے ملا ہوا ہے کہ اگر وہ تمہیں ہلاک کردے تو اسے کوئی پرواہ نہیں اس نے تمہارے جیسے بے شمار لوگ ہلاک کردیئے اور وہ ان کو دنیا میں طرح طرح کی تکلیفوں اور بیماریوں کے ذریعے مسلسل عذاب دے رہا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ان کے دلوں میں کفر اور منافقت کی بیماری بھی ہے پھر وہ ہمیشہ عذاب میں رہیں گے پھر ان کے بارے میں یوں خبر دی۔
وَلَوْ شِئْنَا لَاٰتَیۡنَا کُلَّ نَفْسٍ ہُدٰىہَا وَ لٰکِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّیۡ لَاَمْلَـَٔنَّ جَہَنَّمَ مِنَ الْجِنَّۃِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیۡنَ ﴿۱۳﴾
ترجمہ : کنز الایمان''اور اگر ہم چاہتے ہر جان کو اس کی ہدایت فرماتے مگر میری بات قرار پاچکی کہ ضرور جہنم کو بھر دونگا ان جنوں اور آدمیوں سب سے '' (پارہ۲۱' سوره سجدہ' آیت ۱۳) اور ارشاد خداوندی ہے:
وَتَمَّتْ کَلِمَۃُ رَبِّکَ لَاَمْلَـَٔنَّ جَہَنَّمَ
ترجمہ : کنز الایمان''اور تمہارے رب کی بات پوری ہوچکی کہ بیشک ضرور جہنم بھردونگا'' (پارہ ۱۲'ہود' آیت ۱۱۹)