انبیاء کرام علیہم السلام باوجود اس کے کہ ان پر نعمتوں کا فیضان ہوا' خوف رکھتے تھے کیونکہ وہ اﷲ تعالیٰ کی خفیہ تدبیر سے بے خوف نہیں ہوتے تھے اور اﷲ تعالیٰ کی خفیہ تدبیر سے وہی لوگ بے خوف ہوتے ہیں جو نقصان اٹھانے والے ہیں حتی کہ ایک روایت میں ہے کہ اﷲ تعالیٰ کے خوف سے نبی اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اور حضرت سیدنا جبریل علیہ السلام دونوں رونے لگے تو اﷲ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ تم دونوں کیوں روتے ہو۔ میں نے تم دونوں کو امن عطا کیا ہے انہوں نے عرض کیا یا اﷲ ! تیری خفیہ تدبیر سے کون بے خوف ہوسکتا ہے۔
گویا جب ان دونوں کو معلوم ہوا کہ اﷲ تعالیٰ تمام غیبوں کو جاننے والا ہے اور انہیں (اﷲ تعالیٰ کے بتائے بغیر) امور کی غایت سے آگاہی نہیں ہوسکتی تو وہ اس بات سے بے خوف نہ ہوئے کہ اﷲ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ میں نے تم دونوں کو امن دیا ان کے لئے ابتلاء و آزمائش کے طور پر ہو اور ان کے لئے خفیہ تدبیر ہو حتی کہ اگر ان کا خوف ٹھہر جائے تو ظاہر ہوجائے کہ وہ خفیہ تدبیر خداوندی سے بے خوف ہیں اور انہوں نے اپنی بات کو پورا نہیں کیا۔
جس طرح حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو منجنیق میں رکھا گیا تو انہوں نے فرمایا ''حَسْبِیَ اﷲُ'' (اﷲ تعالیٰ مجھے کافی ہے) اور یہ بہت بڑی بڑی دعاؤں میں سے ایک دعا تھی پس آپ کا امتحان لیا گیا اور ہوا میں حضرت سیدنا جبریل علیہ السلام کے سامنے فرشتہ پیش کیا گیاجس نے کہا کیا آپ کو کوئی حاجت ہے؟ فرمایاتم سے کوئی حاجت نہیں ہے' تو آپ (علیہ السلام)نے اپنے قول '' حسبی اﷲ'' کے ساتھ اس طرح وفا کی اﷲ تعالیٰ نے اسی بات کو بیان فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا۔