Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
185 - 325
اگر اﷲ تعالیٰ چاہے تو ہرنفس کو ہدایت دے دے یعنی سب کو فرشتوں کی طرح بنا دے لیکن اس نے اپنی مشیّت سے بندوں کو بااختیار بنایا۔

اورسوره واقعہ میں ہے۔
لَیۡسَ لِوَقْعَتِہَا کَاذِبَۃٌ ۘ﴿۲﴾خَافِضَۃٌ رَّافِعَۃٌ ۙ﴿۳﴾
ترجمہ : کنز الایمان ''اس وقت اس کے ہونے میں کسی کو انکار کی گنجائش نہ ہوگی کسی کو پست کرنے والی کسی کو بلندی دینے والی ''

(پارہ ۲۷' سوره واقعہ ۲،۳)

یعنی جو کچھ ہونے والا ہے اسے لکھ کر قلم خشک ہوگیا اور گذشتہ بھی مکمل ہوگیا حتی کہ واقعہ (قیامت) آگئی یعنی وہ ان لوگوں کو پست کرنے والی ہے جو دنیا میں بلند کئے گئے تھے اور جن لوگوں کو دنیا میں پست کیا گیا تھاان کو اٹھانے والی ہے۔

اور سورۃ تکویر میں قیامت کی ہولناکی اور خاتمہ کے انکشاف کا بیان ہے اور وہ ارشاد خداوندی ہے۔
وَ اِذَا الْجَحِیۡمُ سُعِّرَتْ ﴿۪ۙ۱۲﴾وَ اِذَا الْجَنَّۃُ اُزْلِفَتْ ﴿۪ۙ۱۳﴾عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّاۤ اَحْضَرَتْ ﴿ؕ۱۴﴾
ترجمہ : کنز الایمان ''اور جب جہنم بھڑکایا جائے اور جنت پاس لائی جائے ہر جان کو معلوم ہوجائے گا جو حاضر لائی'' (پارہ۳۰' سوئہ تکویر 'آیت ۱۲تا ۱۴)

اور سورۃ ''عَمَ یتسآ لون'' میں ہے۔
یَّوْمَ یَنۡظُرُ الْمَرْءُ مَا قَدَّمَتْ یَدٰہُ
ترجمہ : کنز الایمان ''جس دن آدمی دیکھے گا جو کچھ اس کے ہاتھوں نے آگے بھیجا'' (پارہ ۳۰ ' سوره النباء 'آیت ۴۰)

اور ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
 لَّا یَتَکَلَّمُوۡنَ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَہُ الرَّحْمٰنُ وَ قَالَ صَوَابًا ﴿۳۸﴾
ترجمہ : کنز الایمان ''کوئی نہ بول سکے گا مگر جسے رحمن نے اذن دیا اور اس نے ٹھیک بات کہی''(پارہ۳۰' سوره النباء' آیت ۳۸)
چار شرائط :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!قرآن پاک میں اول سے آخر تک ڈرسنانے والی آیات ہیں لیکن اس شخص کے لئے جو اسے غور وفکر سے پڑھے اور اگر اس میں صرف یہی درج ذیل آیت ہوتی تو بھی کافی تھی کیونکہ مغفرت کو چار شرطوں سے مشروط کردیا گیا جن میں سے ہر ایک شرط ایسی ہے جس سے بندہ عاجز ہے۔
Flag Counter