Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
183 - 325
ترجمہ : ''یا اﷲ ! اسے عذاب قبر سے اور عذاب جہنم سے بچا''

ایک دوسری روایت میں ہے آپ ا نے ایک شخص کو کہتے ہوئے سنا کہ اے بچے تجھے مبارک ہو تو جنت کی چڑیوں میں سے ایک چڑیا ہے تو آپ  صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے غضب فرمایااور فرمایا تمہیں کیا معلوم کہ وہ اس طرح ہے(یعنی اس بچے کا جنتی ہونا کوئی قطعی بات نہیں بلکہ رب (عزوجل) کے کرم پر موقوف ہے)اﷲ کی قسم میں اﷲ کا رسول ہوں اور میں (اﷲ (عزوجل) کے بتائے بغیر)نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا ہوگابے شک اﷲ تعالیٰ نے جنت کو پیدا فرمایا اور اس کے کچھ اہل پیدا کئے ان میں اضافہ اور کمی نہ ہوگی۔ (صحیح مسلم جلد ۲ ص ۳۳۷ کتاب القدر)
لاادری :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حدیث شریف میں '' لاادری'' کے الفاظ آئے ہیں اور درایت کا معنی اندازے سے جاننا ہے نبی اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے قول کا مطلب یہ ہے کہ میں اﷲ تعالیٰ کے بتائے بغیر محض اندازے سے نہیں جانتا علم کی نفی نہیں لہٰذا جو لوگ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو اپنے انجام کا علم نہ تھا وہ جاہل ہی نہیں بدبخت بھی ہیں جو آپ  صلی اللہ تعالی علیہ وسلم  کے مقام محمود کے بارے میں اس قسم کے عقیدے کے حامل ہیں اﷲ تعالیٰ ایسے گمراہوں سے محفوظ رکھے آمین۔)

ایک روایت میں ہے نبی اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت سیدنا عثمان بن مظعون رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے جنازے پر بھی یہی بات فرمائی جوکہ مہاجرین اولین میں سے تھے جب ان کا انتقال ہوا تو حضرت سیدتنا ام سلمہ رضی اﷲ عنہا نے فرمایا اﷲ کی قسم میں عثمان کے بعد کسی کی پاکیزگی بیان نہیں کروں گی۔ (صحیح بخاری جلد اول ص ۱۶۶ کتاب الجنائز (نوٹ) یہ الفاظ ام خارجہ کے ہیں سیدتنا ام سلمہ رضی اﷲ عنہا کے نہیں)

حضرت سیدنا محمد بن خولہ حنفیہ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا میں' رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے علاوہ کسی کی پاکیزگی بیان نہیں کروں گا بلکہ جس باپ نے مجھے جنا اس کی پاکیزگی بھی نہیں بیان کروں گا۔
قفل ِ مدینہ :
ایک دوسری حدیث میں مروی ہے اصحاب صفہ میں سے ایک صحابی شہید ہوگئے ان کی ماں نے کہا تمہیں مبارک ہو تم جنت کی چڑیوں میں سے ایک چڑیا ہو تم نے رسول اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی طرف ہجرت کی اور اس کے راستے میں شہید ہوئے ۔
Flag Counter