اور جو شخص درندے کے پنجے میں پھنستا ہے اگر اس کی معرفت مکمل ہو تو وہ درندے سے نہیں ڈرتا کیونکہ درندہ بھی ایک ہستی کے سامنے مجبور ہے کہ اگر اس پر بھوک مسلط ہو تو وہ چیرتا پھاڑتا ہے اور اگر اس پر غفلت مسلط ہو تو اس کا راستہ چھوڑ دیتا ہے اوریہ بھوک اور غفلت اسپر اسکا خالق مسلط کرتا ہے چنانچہ وہ شخص درندے کے خالق اور اس کی صفات کے خالق سے ڈرتا ہے ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !سیدناامام غزالی (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) کچھ اسطرح ارشاد فرماتے ہیں کہ میں یہ نہیں کہتا کہ اﷲ تعالیٰ سے خوف کی مثال وہ خوف ہے جو درندے سے ہوتا ہے بلکہ جب پردہ ہٹتاہے تو معلوم ہوتا ہے کہ درندے سے خوف بعینہٖ اﷲ تعالیٰ سے خوف ہے کیوں کہ درندے کے واسطے سے ہلاک کرنے والا تو اﷲ تعالیٰ ہے تو جان لو کہ آخرت کے درندے دنیا کے درندوں کی طرح ہیں اور اﷲ تعالیٰ نے ثواب و عذاب کے اسباب کو پیدا فرمایا اور ہر ایک کے لئے اس کا اہل پیدا کیا ،جسے تقدیر اس کی طرف چلاتی ہے جس کے لئے اسے پیدا کیا گیا۔
چنانچہ اﷲ تعالیٰ نے جنت کو پیدا کیا اور اس کے اہل لوگ پیدا کئے اور وہ اس کے اسباب کے لئے مسخر کئے گئے وہ چاہیں یا نہ' اور جہنم کو پیدا کرکے اس کے اہل پیدا کئے جو اس کے اسباب کے لئے مسخر کئے گئے وہ چاہیں یا نہ ۔۔۔۔۔۔
چنانچہ جب کوئی شخص اپنے آپ کو تقدیر کی موجوں میں غوطہ زن دیکھتا ہے تو اس پر لازماً خوف غالب آتا ہے۔ پس تقدیر کے اسرار کی پہچان رکھنے والوں کے لئے یہ مقامات خوف ہیں اورجس شخص کی کوتاہ نظری اسے حقیقت حال تک نہ پہنچنے دے اس کے لئے راستہ یہ ہے کہ وہ آیات و آ ثار سُن کر اپنا علاج کرے اور ڈرنے والے عارفین کے حالات اور اقوال کا مطالعہ کرے پھر ان کی عقلوں اورمرتبوں کا موازنہ عام دنیادار اور لمبی امیدوں کے شکارلوگوں کی عقلوں سے کر ے اورفیصلہ کرے کہ کس کی پیروی اسکے لئے فائدہ مند ہے تو اسے یقین ہو جائے گا کہ ان لوگوں کی اقتدا زیادہ بہتر ہے کیونکہ وہ انبیاء کرام علیہم السلام، اولیاء عظام اور علماء ث ہیں اور جو لوگ بے خوف ہیں وہ فرعون جاہل اور غبی ہیں
نیزہمارے رسول اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم جو پہلوں اور پچھلوں کے سردار ہیں۔ (صحیح مسلم جلد ۲ ص ۲۴۵ کتاب الفضائل)
اسکے باوجود۔آپ ا سب لوگوں سے زیادہ خوف کھانے والے تھے ۔ (مسند امام احمد بن حنبل جلد ۶ ص ۱۸۱ مرویات عائشہ )
حتی کہ ایک روایت میں ہے آپ ا ایک بچے کی نماز جنازہ پڑھا رہے تھے اور ایک روایت میں ہے کہ آپ سے اس کے لئے دعا میں سنا گیا۔