نہیں ہوتی صرف اس کی اور اس کے شکنجے میں آنے کی معرفت ضروری ہے کسی دوسرے حیلے کی حاجت نہیں ہے۔
چنانچہ جو شخص اﷲ تعالیٰ کی معرفت حاصل کرلیتا ہے کہ وہ جو چاہے کرے اسے کوئی پرواہ نہیں جو چاہے فیصلہ کرے اسے کوئی خوف نہیں اس نے کسی سابقہ وسیلے کے بغیر فِرشتوں کو اپنے قریب کیا اور کسی گزشتہ جرم کے بغیر شیطان کو اپنے آپ سے دور کردیا بلکہ اس کی صفت تووہی ہے جو (گذشتہ صفحات میں مذکور حدیث میں ) بیان ہوئی اس نے فرمایا ۔
''یہ لوگ جنت میں جائیں گے اور مجھے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں اور یہ جہنم میں جائیں گے اور مجھے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں۔''
چنانچہ پیارے آقا سرکارِ دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب حضرت آد م اور مو سیٰ علیہما السلام دونوں نے اپنے رب کے ہاں ایک دوسرے سے اختلاف کیا تو حضرت آدم (علیہ السلام) حضرت موسیٰ(علیہ السلام) پر غالب آگئے (ان کی دلیل غالب آگئی) حضرت موسی (علیہ السلام) نے فرمایا آپ آدم(علیہ السلام) ہیں اﷲ تعالیٰ نے آپ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) کو اپنے دستِ قدرت سے پیدا فرمایا اور آپ ں میں اپنی روح پھونکی فرشتوں سے آپ(علیہ السلام) کو سجدہ کرایا اور آپ ں کو اپنی جنت میں ٹھہرایا پھر آپ ں کی خطائے اجتہادی کے باعث لوگوں کو زمین پر اترنا پڑا ۔
اس پرحضرت آدم (علیہ السلام)نے فرمایا آپ موسیٰ (علیہ السلام)ہیں آپ (علیہ السلام)کو اﷲ تعالیٰ نے اپنی رسالت اور کلام کے لئے منتخب فرمایا۔ اور آپں کو تختیاں عطا فرمائیں جن میں ہر چیز کا بیان تھا آپں کو کلام کے لئے اپنے قریب کیا تو آپ (علیہ السلام)کا کیا خیال ہے اﷲ تعالیٰ نے میری تخلیق سے کتنے سال پہلے تورات لکھی حضرت موسیٰ(علیہ السلام)نے فرمایا چالیس سال' حضرت آدم(علیہ السلام)نے فرمایا کیا آپں نے اس میں لکھا ہوا پایا کہ آدم (علیہ السلام)سے خطائے (اجتہادی )ہوئی اور آپ ں نے جو چاہا تھا حاصل نہ ہوا۔ انہوں نے فرمایا ہاں لکھا ہوا پایا ہے فرمایا کیا آپ مجھے اس عمل پر ملامت کررہے ہیں جو میرے عمل کرنے سے پہلے اﷲ تعالیٰ نے لکھ دیا کہ میں وہ عمل کروں گا اور میری تخلیق سے چالیس سال پہلے لکھا۔ (صحیح بخاری جلد ۲ ص ۱۱۱۹ کتاب التوحید)
تومیٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! جو شخص اس معاملے میں نور ہدایت سے سبب کو پہچان لے گا وہ ان خاص عارفین میں سے ہے جو تقدیر کے راز پر مطلع ہوتے ہیں اور جو آدمی یہ بات سن کر ایمان لائے اور محض سننے کے ذریعے تصدیق کرے وہ عام مومنوں میں سے ہے اور دونوں فریقوں میں سے ہر ایک کو خوف حاصل ہوتا ہے کیونکہ ہر بندہ قبضہ قدرت میں اس طرح ہوتا ہے جس طرح ایک کمزور بچہ درندے کے پنجے میں ہوتا ہے درندہ بعض اوقات اتفاقی طور پر غافل ہو کر اسے چھوڑ دیتا ہے اور کبھی اس پر حملہ کرکے اسے چیرپھاڑ دیتا ہے