Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
179 - 325
ہم نے جو کچھ صبر کے علاج کے سلسلے (احیاء العلوم) میں جو کچھ میں لکھا ہے وہ کافی ہے لیکن ہم خوف کے سلسلے میں مستقل طور پر ایک اجمالی گفتگو کرنا چاہتے ہیں چنانچہ ہم کہتے ہیں۔
خوف کے دو طریقے :
خوف دو مختلف طریقوں سے حاصل ہوتا ہے ان میں سے ایک' دوسرے سے اعلیٰ ہے اور اس کی مثال یہ ہے کہ جب گھر میں کوئی بچہ ہو اور اس کے پاس کوئی درندہ یا سانپ آجائے تو بعض اوقات وہ نہیں ڈرتا اور بعض دفعہ وہ سانپ کی طرف ہاتھ بڑھاتا ہے تاکہ اسے پکڑ کر اس سے کھیلے لیکن جب اس کے ساتھ اس کا باپ بھی ہو اور وہ عقل مند ہو تو وہ سانپ سے ڈرکر کر بھاگ جاتا ہے اور جب بچہ اپنے باپ کو دیکھتا ہے کہ اس کی جسم پر لرزہ طاری ہے اور وہ بھاگنے کی کوشش کررہا ہے تو وہ بھی اس کے ساتھ کھڑا ہوجاتا ہے اور اس پر بھی خوف غالب ہوجاتا ہے۔چنانچہ وہ بھاگنے میں باپ کی پیروی کرتا ہے تو باپ کا خوف بصیرت اور سانپ کی صفت کو جاننے کی وجہ سے ہے کہ اس میں زہر ہے اور اس کی فلاں خاصیت ہے' درندے کاغلبہ' اس کی پکڑ اور پرواہ نہ کرنا وغیرہ سب باتیں سامنے ہوتی ہیں۔

لیکن بیٹے کا خوف محض تقلیدکی بنیاد پر ہے کیونکہ وہ باپ کے بارے میں اچھا گمان رکھتا ہے اور وہ جانتا ہے کہ باپ کے خوف کا کوئی سبب ہے جو ذاتی طور پر ڈرانے والا ہے پس اسے معلوم ہوجاتا ہے کہ درندے سے ڈرنا چاہئے لیکن بچے کو اس کی وجہ معلوم نہیں ہوتی۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائيو !اﷲ تعالیٰ سے خوف دوقسموں کاہوتا ہے۔ (۱) اس کے عذاب سے خوف (۲) خود اس کی ذات سے خوف ۔

نمبر( ۲) قسم کا خوف علماء حق اور ارباب قلوب رحمھم اﷲ کا خوف ہے جو جانتے ہیں کہ اس کی صفات میں سے بعض صفات اس سے ہیبت اور خوف کا تقاضہ کرتی ہیں اور وہ اﷲ تعالیٰ کے اس ارشاد گرامی کے راز پر مطلع ہیں۔
وَ یُحَذِّرُکُمُ اللہُ نَفْسَہٗ ؕ
ترجمہ کنز الایمان : ''اور اﷲ تمہیں اپنے غضب سے ڈراتا ہے''(پارہ۳ 'سورۃ آل عمران 'آیت ۲۸)

اور ارشاد خداوندی ہے۔
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللہَ حَقَّ تُقٰتِہٖ
ترجمہ کنز الایمان : ''اے ایمان والوں اﷲ سے ڈر و جیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے'' (پارہ۴' سورۃ آل عمران' آیت ۱۰۲)
Flag Counter