میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!سیدنا امام غزالی علیہ الرحمۃ اس فصل میں خوف کے علاج کے بارے میں کچھ ارشاد فرمارہے ہیں جس کا خلاصہ حسب ذیل ہے ۔
ہم نے صبر کی دوا کے بارے میں جو کچھ ذکر کیا اور صبر وشکر کے بیان میں جو تشریح کی ہے وہ اس غرض کے لئے کافی ہے کیونکہ صبر اسی وقت ممکن ہوتا ہے جب خوف اور اُمید حاصل ہو کیونکہ دین کا پہلا مقام یقین ہے جو اﷲ تعالیٰ آخرت' جنت اور دوزخ پر ایمان کی قوت کا نام ہے اور یہ یقین لازمی طو رپر جہنم سے خوف اور جنت کی امید کو ابھارتا ہے اور امید اور خوف صبر کرنے پر مدد دیتے ہیں کیونکہ جنت ناپسندیدہ امور سے ڈھانپی گئی ہے اور اس کی راہ میں آنے والی مصیبتوں کو اٹھانے پر صبر' امید کی قوت کے بغیر نہیں ہوسکتا اور جہنم خواہشات کے ساتھ ڈہانپی گئی اور ان شہوات کے قلع قمع کے لئے قوتِ خوف کی ضرورت ہے۔
اسی لئے حضرت سیدنا علی المرتضیٰ کرم اﷲ وجہہ نے فرمایا جو شخص جنت کا شوق رکھتا ہو وہ خواہشات سے نکل جائے اور جو جہنم سے ڈرتا ہو وہ حرام کاموں سے باز رہے۔
پھر خوف اور امید سے حاصل ہونے والا صبر مقامِ مجاہدہ' ذکر خداوندی کے لئے گوشہ نشینی اور مراقبہ تک پہنچتا ہے اور دائمی ذکر اُنس پیدا کرتا ہے جب کہ دائمی فکر کمالِ معرفت تک لے جاتا ہے اور کمال معرفت اور اُنس محبت تک لے جاتے ہیں پھر محبت کے بعد مقام رضا و توکل بلکہ تمام مقامات ہیں تو منازلِ دین کو طے کرنے میں اسی ترتیب کو سامنے رکھا جائے اور اصل یقین (ایمان) کے بعد خوف اور امید کے سوا کوئی مقام نہیں ۔
اور ان دونوں کے بعد صبر کے علاوہ کوئی مقام نہیں اور اسی سے مجاہدہ اور ظاہری و باطنی طور پر اﷲ تعالیٰ کے لئے تنہائی نصیب ہوتی ہے اور جس کے لئے راستہ کھل جائے اس کے لئے مجاہدہ کے بعد صرف ہدایت اور معرفت ہے اور معرفت کے بعد صرف محبت اور اُنس کا مقام اور محبت کی ضرورت ہے کہ محب محبوب کے فعل پرر اضی ہو اور اس کی عنایت پر یقین رکھے تو