اَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِیْ بِیْ فَلْیَظُنَّ بِیْ مَاشَاء
ترجمہ : '' میں اپنے بندے کی امید کے قریب ہوں۔تو اب جیسی چاہے مجھ سے امید رکھے ''(مسند امام احمد بن حنبل جلد ۲ ص ۳۱۵ مرویات ابی ہریرہ)
جب حضرت سیدنا سلیمان تیمی رحمہ اﷲ کی وفات کا وقت آیا تو انہوں نے اپنے بیٹے سے فرمایا اے میرے بیٹے ! مجھ سے رخصتوں کا بیان کرنا اور امید یاد دلانا تاکہ میں اﷲ تعالیٰ سے حُسن ظن کے ساتھ ملاقات کروں۔
اسی طرح جب حضرت سیدنا سفیان ثوری رحمۃ اﷲتعالیٰ علیہ کے وصال کا وقت ہوا اور ان کا جزع فزع زیادہ ہوا تو انہوں نے اپنے اردگرد علماء کو جمع کیا جو ان کو امید یاد دلاتے تھے ۔۔۔۔۔۔ حضرت سیدنا امام احمد بن حنبل رحمہ اﷲ تعالیٰ نے وصال کے وقت اپنے بیٹے سے فرمایا مجھے وہ احادیث یاد دلاؤ جن میں امید اور حسُن ظن کا ذکر ہے۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ان تمام باتوں کا مقصودیہ ہے کہ بندے کو چاہیئے کہ اپنے دل میں اﷲ تعالیٰ کی محبت پیدا کرے اسی لئے اﷲ تعالیٰ نے حضرت سیدنا داؤد علیہ السلام کی طرف وحی بھیجی کہ میرے بندوں کے دلوں میں میری محبت ڈال دیں انہوں نے پوچھا کس طرح ؟ فرمایا ان کو میری نعمتیں اور نوازشات یاد دلائیں۔ تو انتہائی سعادت یہ ہے کہ انسان اﷲ تعالیٰ کی محبت میں دنیا سے رخصت ہو اور محبت کا حصول معرفت اور دل سے دنیا کی محبت کو نکالنے کے بعد ہی ہوتا ہے حتی کہ