ہیں ان کے لئے زیادہ بہتر غلبہ خوف ہے لیکن شرط یہ ہے کہ وہ (خوف) ناامیدی 'ترک عمل اور مغفرت کی امیدختم کرنے کا باعث نہ بنے کیونکہ اس صورت میں یہ خوف ' عمل سے سستی کا سبب بن جائے گا۔ اور گناہوں میں انہماک کی دعوت دے گا یہ تو ناامیدی ہے خوف نہیں ہے خوف تو وہ ہے جو عمل کی ترغیب دے اور تمام خواہشات کو گدلا کردے نیز دل سے دنیا کی طرف محبت کم کردے اور اس دھوکے والے گھر یعنی (دنیا) سے دور رہنے کی دعوت دے ایسا خوف پسندیدہ ہے ۔
چنانچہ حضرت سیدنا یحییٰ بن معاذ رحمہ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا جو شخص اﷲ تعالیٰ کی عبادت محض خوف سے کرتا ہے وہ فکرات کے سمندروں میں غرق ہوجاتا ہے اور جو شخص اس کی عبادت محض امید سے کرتا ہے وہ دھوکے کے جنگل میں بھٹکتارہے گا اور جو آدمی اﷲ تعالیٰ کی عبادت خوف اور امید دونوں کے ساتھ کرتا ہے وہ ذکر کے راستے میں سیدھا چلے گا۔
اسی طرح حضرت سیدنا مکحول دمشقی رحمہ اﷲ فرماتے ہیں جو شخص اﷲ تعالیٰ کی عبادت محض خوف کی وجہ سے کرتا ہے وہ حروری (خارجی) ہے اور جو امید کے ساتھ عبادت کرتا ہے وہ مرجی ہے ( یہ وہ فرقہ ہے جن کے خیال میں مومن جہنم میں نہیں جائے گا چاہے وہ برے اعمال کرے) اور جو محض محبت کی وجہ سے عبادت کرتا ہے وہ زندیق (بے دین) ہے اور جو شخص خوف ' امید اور محبت (تینوں باتوں) کے پیش نظر عبادت کرتا ہے وہ مُوَحِّد( یعنی اﷲ عزّوجل کو ایک ماننے والا)ہے۔
تو ان تینوں امور کو کا جمع ہونا ضروری ہے اور غلبہئ خوف زیادہ بہتر ہے لیکن موت سے پہلے پہلے جبکہ موت کے وقت زیادہ بہتر امید اور حُسِن ظن کا غلبہ ہے کیونکہ خوف اس کوڑے (ڈنڈے) کے قائم مقام ہے جو عمل پر ابھارتا ہے اوراب عمل کا وقت ختم ہوگیاکیونکہ موت کا سامنا کرنے والا عمل پر قادر نہیں ہوتا چنانچہ وہ خوف کے اسباب کی طاقت بھی نہیں رکھتا کیونکہ اس وقت اس کی زیادہ دل شکنی ہونے کا امکان ہوتا ہے لیکن امید دل کو مضبوط کرتی ہے اور اسے اس رب سے محبت دلاتی ہے جس سے امید باندھی ہے۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! کسی آدمی کے لئے مناسب نہیں ہے کہ وہ دنیا سے اﷲ تعالیٰ کی محبت کے بغیر جائے بلکہ ضروری ہے کہ اسے اﷲ تعالیٰ کی ملاقات محبوب ہو کیونکہ جو شخص اﷲ تعالیٰ سے ملاقات چاہتا ہے اﷲ تعالیٰ اس سے ملاقات کو پسند فرماتا ہے اور امید کے ساتھ محبت ملی ہوئی ہوتی ہے اور جس کے کرم کی امید ہو وہ محبوب ہوتا ہے اور تمام علوم واعمال کا مقصد اﷲ تعالیٰ کی معرفت ہے اور معرفت سے محبت پیدا ہوتی ہے کیونکہ اسی کی طرف جانا ہے اور موت کے ذریعے اسی کی طرف بڑھنا ہے اور جو آدمی اپنے محبوب کی طرف جاتا ہے اس کا سرور بقدر محبت بڑھتا ہے اور جو شخص اپنے محبوب سے جدا ہوجائے اس کی تکلیف اور سختی بہت زیادہ ہوتی ہے۔