Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
174 - 325
تقد یر کا لکھا :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !نبی اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا۔
اِنَّ الرَّجُلَ لَیَعْمَلُ عَمَلَ اَھْلِ الْجَنَّۃِ خَمْسِیْنَ سَنَۃً حَتَّی لاَ یَبْقَی بَیْنَہُ وَبَیْنَ الْجَنَّۃِ اِلاَّ

شِبْرٌ وفی روایۃ اِلاَّقَدْرُ فُوَاقِ نَاقَۃٍ فَیَسْبِقُ عَلَیْہِ اْلکِتَابُ فَیُخْتَمُ لَہُ بِعَمَلِ اَھْلِ النَّارِ
''بے شک ایک شخص پچاس سال تک جنتیوں والے اعمال کرتا ہے حتی کہ اس کے اور جنت کے درمیان ایک بالشت کا فاصلہ رہ جاتا ہے 

( اور ایک روایت میں ہے) مگر اونٹنی کی دو دھاروں کے درمیان والی مقدار باقی رہ جاتی ہے کہ اس پر تقدیر غالب آتی ہے تو اس کا 

خاتمہ جہنمیوں والے کام پر ہوتا ہے۔''(صحیح مسلم جل ۲ ص ۳۳۴ کتاب القدر / مسند امام احمد بن جنبل جلد اول ص ۳۸۲ مرویات عبد اﷲ)  اور ظاہر سی بات ہے کہ اونٹنی کے دودھ دوہنے کے دوران دو دھاروں کے درمیان کا وقفہ اعضاء کے عمل کا احتمال نہیں رکھتا یقینا وہ موت کے وقت دل میں پیدا ہونے والے کھٹکے کی مقدار ہے پس وہ برے خاتمہ کا تقاضا کرتی ہے تو وہ اس سے کس طرح بے خوف ہوگا کہ کہیں موت کے وقت قلب کی ایمانی کیفیت نہ بدل جائے ۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مومن کی انتہائی غرض و غایت یہی ہے کہ اس کا خوف اور امیداعتدال پر ہوں عام لوگوں میں امید کا غلبہ اس لئے ہوتا ہے کہ وہ دھوکہ کھا جاتے ہیں اور ان کو معرفت کم حاصل ہوتی ہے اسی لئے اﷲ تعالیٰ نے ان دونوں باتوں کو ان لوگوں کے وصف میں جمع کیا جن کی تعریف کی گئی۔

ارشاد خداوندی (عزوجل) ہے :
یَدْعُوۡنَ رَبَّہُمْ خَوْفًا وَّ طَمَعًا ۫
ترجمہ کنز الایمان : ''اور اپنے رب کو پکارتے ہیں ڈرتے اور امید کرتے ''

(پارہ۲۱' سوره السجدہ' آیت ۱۶)

اوراسی طرح ارشادباری (عزوجل) ہے۔
وَ یَدْعُوۡنَنَا رَغَبًا وَّ رَہَبًا ؕ
ترجمہ کنز الایمان : ''اور ہمیں پکارتے تھے امید اور خوف سے''(پارہ۱۷' سورۃ انبیاء' آیت ۹۰)

اور حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ جیسا شخص اس زمانے میں کہاں ؟ اس زمانے میں توجتنے لوگ موجود
Flag Counter