''بے شک ایک شخص پچاس سال تک جنتیوں والے اعمال کرتا ہے حتی کہ اس کے اور جنت کے درمیان ایک بالشت کا فاصلہ رہ جاتا ہے
( اور ایک روایت میں ہے) مگر اونٹنی کی دو دھاروں کے درمیان والی مقدار باقی رہ جاتی ہے کہ اس پر تقدیر غالب آتی ہے تو اس کا
خاتمہ جہنمیوں والے کام پر ہوتا ہے۔''(صحیح مسلم جل ۲ ص ۳۳۴ کتاب القدر / مسند امام احمد بن جنبل جلد اول ص ۳۸۲ مرویات عبد اﷲ) اور ظاہر سی بات ہے کہ اونٹنی کے دودھ دوہنے کے دوران دو دھاروں کے درمیان کا وقفہ اعضاء کے عمل کا احتمال نہیں رکھتا یقینا وہ موت کے وقت دل میں پیدا ہونے والے کھٹکے کی مقدار ہے پس وہ برے خاتمہ کا تقاضا کرتی ہے تو وہ اس سے کس طرح بے خوف ہوگا کہ کہیں موت کے وقت قلب کی ایمانی کیفیت نہ بدل جائے ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مومن کی انتہائی غرض و غایت یہی ہے کہ اس کا خوف اور امیداعتدال پر ہوں عام لوگوں میں امید کا غلبہ اس لئے ہوتا ہے کہ وہ دھوکہ کھا جاتے ہیں اور ان کو معرفت کم حاصل ہوتی ہے اسی لئے اﷲ تعالیٰ نے ان دونوں باتوں کو ان لوگوں کے وصف میں جمع کیا جن کی تعریف کی گئی۔
ارشاد خداوندی (عزوجل) ہے :