صورت میں نہیں ہوگا۔ کیونکہ غلبہ امید کا سبب وہ علم ہے جو تجربہ سے حاصل ہوتا ہے کیونکہ کسان نے تو تجربہ سے زمین کا صحیح اور صاف ہونا' بیج کی صحت ہوا کا صحیح ہونا اس زمین میں اور اس کے علاوہ ہلاک کرنے والی بجلیوں کو اچھی طرح جان لیاہے جبکہ ہمارے اس مسئلہ کی مثال میں بیج ایسا ہے جس کا تجربہ نہیں ہوا اور وہ عجیب و غریب زمین میں ڈالا گیا ہے اِس کاشتکار نے اس زمین کی دیکھ بھال نہیں کی اور نہ ہی اسے آزمایا۔
اور یہ ان شہروں میں ہے جن کے بارے میں معلوم نہیں ہوتا کہ اس میں بجلی یا گرج زیادہ ہوگی یا بارش تو اس کاشتکار کی مثال یہ ہے کہ اگرچہ اس نے انتہائی بھرپور کوشش کی اور جو کچھ اس کے بس میں تھا اسے عمل میں لایا پھر بھی اس کی امید' خوف پر غالب نہیں ہوتی اور ہمارے اس مسئلہ میں بیج ایمان ہے اور اس کے صحیح ہونے کی شرائط نہایت دقیق ہیں زمین دل ہے اس کی پوشیدہ کاخباثتیں اور صفات یعنی شرک خفی' منافقت ،ریاکاری اور پوشیدہ عادتیں بہت دقیق ہیں اور اس زمین کی آفات خواہشات ہیں اور دنیا کی زیبائش اور دل کا مستقبل میں اس کی طرف متوجہ ہوجانا ہے اگرچہ فی الحال دل دنیا کی طرف متوجہ نہیں اور یہ ان باتوں میں سے ہے جن کی مخالفت انسانی طاقت سے باہر ہے اور اس قسم کے امور کا تجربہ نہیں ہوسکتا اور بجلیاں نیز سکرات موت کی ہولناکی اور اس وقت اعتقاد کا مضطرب ہونا ہے اور یہ ان امور میں سے ہے جو تجربات کے تحت نہیں آتے پھر اسے کاٹنا اور حاصل کرنا قیامت سے جنت کی طرف جانا ہے اور یہ بات بھی تجربے سے باہر ہے۔
پس جو شخص ان امور کے حقائق کو پہچان لیتا ہے پس اگر اس کا دل کمزور ہو تو لامحالہ اس کا خوف' امید پر غالب آتا ہے جیسے عنقریب ڈرنے والے صحابہ کرام اور تابعین عظام رضی اﷲ عنہم کے احوال میں بیان ہوگا اور اگر اس کا دل مضبوط اور پکا ہو معرفت مکمل ہو تو اس کا خوف اور امید برابر ہوتی ہیں امید غالب نہیں ہوتی۔
حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اپنے دل کی تفتیش میں مبالغہ کرتے تھے حتی کہ آپ حضرت سیدنا حذیفہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے پوچھتے کہ کیا وہ ان کے دل میں منافقت کی کوئی علامت دیکھتے ہیں کیونکہ نبی اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت سیدنا حذیفہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو منافقین کو پہچاننے کی علامات بتا دی تھیں۔ (صحیح مسلم جلد ۲ ص ۳۶۲ کتاب صفات المنافقین)
تو کون شخص ہے جو اپنے دل کو منافقت کے خفیہ امور اور شرکِ خفی سے پاک کرنے پر قادر ہو اور اگر اس کا اعتقاد ہو کہ اس کا دل پاک ہوچکا ہے تو دل کے تغیر کے سلسلے میں اﷲ تعالیٰ کی بے نیازی سے کیسے بے خوف ہوگا اور اس بات کا بھی یقین ہو تو اس بات کا یقین کہاں سے آئے گا کہ حُسِن خاتمہ تک دل اسی طرح رہے گا۔