Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
172 - 325
بہتر)ہے کیونکہ گناہوں کا غلبہ ہے لیکن متقی شخص جس نے ظاہری اور باطنی پوشیدہ اور واضح گناہ ترک کردیئے تو زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ اس کا خوف اور امید اعتدال پر ہوں اسی لئے کہا گیا ہے کہ اگر مومن کے خوف اور امید کا وزن کیا جائے تو دونوں برابر ہوں گے۔
خوف و امید :
مروی ہے کہ حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اپنے کسی صاحبزادے سے فرمایا اے میرے بیٹے ! اﷲ تعالیٰ سے اس طرح خوف کھاؤ کہ تمہارے خیال میں اگر تم تمام زمین والوں کی نیکیاں بھی اس کے پاس لاؤتو وہ تم سے ان کو قبول نہ کرے اور اﷲ تعالیٰ سے امید اس طرح رکھو کہ تم سمجھو کہ اگر تمام اہل زمین کی برائیاں بھی اس کے پاس لاؤ تو وہ تمہیں بخش دے گا۔

اسی لئے کہ حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر آواز دی جائے کہ ایک آدمی کے علاوہ سب لوگ جہنم میں چلے جائیں تو مجھے امید ہے کہ وہ آدمی میں ہوں گااور اگر آواز دی جائے کہ ایک آدمی کے سوا سب لوگ جنت میں چلے جائیں تو مجھے ڈر ہے کہ کہیں وہ ایک شخص میں نہ ہوں ۔۔۔۔۔۔

تو حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ جیسے لوگوں کے خوف اور امید کا مساوی ہونا مناسب ہے لیکن جب کوئی گناہ گار شخص یہ گمان کرے کہ اسے جہنم میں داخلے کے حکم سے اس مستثنیٰ قرار دے دیا گیا ہے تو یہ اس کے دھوکے کی دلیل ہے۔

سوال :

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ جیسے لوگوں کا خوف اور امید ایک جیسا نہیں ہونا چاہئے بلکہ مناسب یہ ہے کہ ان کی امید غالب ہو جیسا کہ امید کے بیان کے آغاز میں گزر چکا ہے اور امید کی قوت اس کے اسباب کے اعتبار سے ہونا مناسب ہے جیسے کھیتی اور بیج کی مثال ہے اور یہ بات معلوم ہے کہ جو شخص اچھی زمین میں صحیح بیج ڈالتا ہے اور اسے مسلسل تیار کرتا ہے اور زراعت کی تمام شرائط کو پورا کرتا ہے اس کے دل میں فصل حاصل کرنے کی امید غالب ہوتی ہے اور اس کا خوف اس کی اس امید کے مساوی نہیں ہوتا تو متقی لوگوں کے احوال کا اسی طرح ہونا مناسب ہے۔

جواب :

امام غزالی علیہ الرحمۃ اس سوال کا یہ جواب ارشاد فرماتے ہیں کہ جان لو ! جو شخص معرفت کو الفاظ اور مثالوں کے ذریعے حاصل کرتا ہے وہ زیادہ غلطی ہے اگر ہم اس کی مثال پیش کریں تو وہ ہمارے زیر بحث مسئلہ کی طرح کسی
Flag Counter