میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!سطور ذیل میں سیدنا امام غزالی (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) خوف اور امید کے بارے میں مختلف روایات کی تطبیق کرتے ہوئے درست ترین تجزیہ فرمارہے ہیں جس کا خلاصہ کچھ اس طرح ہے ۔
جان لو کہ خوف اور امید کے بارے میں بے شمار روایات آئی ہیں بعض اوقات کوئی شخص ان دونوں کو دیکھتا ہے تو اسے شک ہوجاتا ہے کہ ان دونوں میں سے کیا افضل ہے اور کسی قائل کا یہ قول کہ خوف افضل ہے یا امید' ایک فضول سوال ہے کیونکہ یہ اس بات کی طرح ہے کہ روٹی افضل ہے یا پانی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ بھوکے کے لئے روٹی افضل ہے اور پیاسے کے لئے پانی اور اگر پیاس غالب ہو تو پانی افضل ہے اور اگر دونوں برابر ہوں تو روٹی اور پانی دونوں مساوی ہوں گے اس لئے کہ جو چیز کسی مقصود کے لئے مراد ہو تو اس کی فضیلت مقصود کی طرف اضافت کے اعتبار سے ہوتی ہے ذاتی طور پر نہیں اور خوف و امید دو دوائیں ہیں جن کے ساتھ دلوں کا علاج کیا جاتا ہے لہٰذا ان کی فضیلت اس بیماری کے اعتبار سے ہوگی جو موجود ہے چنانچہ اگر دل پر اﷲ تعالیٰ کی خفیہ تدبیر سے بے خوفی اور غرور کی بیماری غالب ہو تو خوف افضل ہے اور اگر اﷲ تعالیٰ کی رحمت سے نا امیدی غالب ہو تو امید افضل ہے اسی طرح اگر بندے پر گناہ غالب ہو تو خوف افضل ہے۔
اسے یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ خوف افضل ہے جس اعتبار سے یہ کہا جاتا ہے کہ روٹی سکنج بین سے افضل ہے کیونکہ روٹی کے ساتھ بھوک کی بیماری کا علاج کیا جاتا ہے اور سکنج بین کے ساتھ صفراء کی بیمای کا اوربھوک کی بیماری زیادہ بھی ہے اور غالب بھی لہٰذا روٹی کی ضرورت بھی زیادہ ہوتی ہے پس وہ افضل ہے اسی طرح غلبہ خوف افضل ہے کیونکہ گناہ اور مخلوق کادھوکے میں ہونا زیادہ پایا جاتا ہے۔
اور اگر ان کے منبع کو دیکھا جائے تو امید افضل ہے کیونکہ اسے بحر رحمت سے سیراب کیا جاتا ہے اور خوف غضب کے سمندر سے سیراب ہوتا اور جو شخص اﷲ تعالیٰ کی ان صفات کی طرف نظر کرتا ہے جو لطف ورحمت کوچاہتی ہیں تو اس پر محبت غالب ہوتی ہے اور محبت سے اوپر کوئی مقام نہیں ۔جہاں تک خوف کا تعلق ہے تو اس کی نسبت ان صفات کی طرف ہوتی ہے جونفرت کو چاہتی ہیں تو محبت جس طرح امید سے ملتی ہے خوف سے نہیں ملتی۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!خلاصہ یہ ہوا کہ جو چیز کسی غیر کے لئے وسیلہ ہوتی ہے اس کے لئے لفظ اصلح (زیادہ بہتر) استعمال کرنا مناسب ہے لفظ افضل نہیں' پس ہم کہتے ہیں کہ اکثر لوگوں کے لئے امید کے مقابلے میں خوف اصلح (یعنی زیادہ