یونہی حضرت سیدنا حنظلہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم نبی اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے پاس تھے تو آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلمنے ہمیں ایک وعظ فرمایا جس سے دل نرم ہوگئے' آنسو بہنے لگے اور ہم سے اپنے نفسوں کو پہچان لیا پھر میں اپنے گھر کی طرف لوٹا اور میری بیوی میرے قریب ہوئی اور ہمارے درمیان دنیاوی گفتگو ہونے لگی تو ہماری وہ حالت ختم ہوگئی جو رسول اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی محفل میں تھی۔پھر مجھے وہ بات یاد آئی تو میں نے دل میں کہا میں تو منافق ہوگیا کیوں کہ جو خوف اور رقت میرے اندر تھی وہ بدل گئی ۔
چنانچہ میں باہر نکلا اور پکارنے لگا کہ حنظلہ منافق ہوگیا حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سامنے سے تشریف لائے اور فرمایا ہرگز نہیں حنظلہ منافق نہیں ہوا پھر میں رسول اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں یہی کہہ رہا تھا کہ حنظلہ منافق ہوگیا نبی اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا ہرگز نہیں حنظلہ منافق نہیں ہوا میں نے عرض کیا یا رسول اﷲ ! ہم آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے پاس تھے آپ نے ایک ایسا وعظ فرمایا جس سے دل دہل گئے' آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور ہم نے اپنے آپ کو پہچان لیا پھر میں اپنے گھر والوں کی طرف لوٹا اور ہم دنیاوی باتوں میں مشغول ہوگئے اور آپ کے ہاں جو حالت پیدا ہوتی تھی میں اسے بھول گیا نبی اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا اے حنظلہ ! اگر تم ہمیشہ ایسی حالت پر رہتے تو فرشتے راستوں میں اور تمہارے بچھونے پر تم سے مصافحہ کرتے لیکن اے حنظلہ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) ! وقت وقت کی بات ہوتی ہے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! نتیجہ یہ ہوا کہ جو کچھ امیداور رونے کی فضیلت' تقویٰ اور ورع کی فضیلت علم کی فضیلت اور بے خوفی کی مذمت کے بارے میں آیا ہے وہ خوف کی فضیلت پر دلالت ہے کیونکہ یہ سب کچھ خوف سے متعلق ہے چاہے سبب کا تعلق ہویا مسبب کا۔