ترجمہ : ''یا اﷲ ! مجھے ایسی دو آنکھیں عطا فرمایا جو کثر ت سے آنسو بہاتی ہوں اور آنسو گرانے سے تسکین دیں اس سےپہلے کہ آنسو خون بن جائیں اور داڑھیں' انگاروں میں بدل جائیں'' (حیلۃ الاولیاء جلد ۲ ص ۱۹۶ ' ۱۹۷ ترجمہ ۱۷۷)
اور آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
جس دن اﷲ تعالیٰ کے عرش کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا سات آدمی اس کے سائے میں ہوں گے' اور ان میں اس شخص کا بھی ذکر فرمایا جوتنہائی میں اﷲ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے تو اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوتے ہیں ۔
حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں جو شخص روسکتا ہو وہ روئے اور جو رونہ سکتا ہو وہ رونے جیسی شکل بنائے اور حضرت سیدنا محمد بن منکدر رحمہ اﷲ تعالیٰ جب روتے تو اپنے چہرے اور داڑھی سے آنسو صاف کرتے اور فرماتے مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ آگ اس جگہ تک نہیں پہنچتی جس پر آنسو گرے ہوں۔
حضرت سیدنا عبد اﷲ بن عمر وبن عاص رضی اﷲ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں روؤ اگر رونا نہیں آتا تو بتکلف روؤ پس اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر تم میں سے کوئی جانتا تو وہ چلاتا حتی کہ اس کی آواز ٹوٹ جاتی اور نماز پڑھتا حتی کہ اس کی پیٹھ ٹوٹ جاتی۔
اسی طرح حضرت سیدنا ابو سلیمان دارانی رحمہ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں جو آنکھ آنسوؤں سے ڈبڈبائے گی اس آنکھ والے کے چہرے پر قیامت کے دن غبار اور ذلت نہیں چڑھے گی اگر اس کے آنسو جاری ہوجائیں تو اﷲ تعالیٰ ان کے پہلے قطرے کے ساتھ آگ کے کئی سمندروں کو بجھادیتا ہے اور جس جماعت میں کوئی شخص (خوف خدا سے) روتا ہے اسے عذاب نہیں ہوتا۔
حضرت سیدنا ابو سلیمان رحمہ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں رونا خوف کی وجہ سے اور جھومناامید و خوشی اورشوق کی وجہ سے ہوتا ہے۔ حضرت سیدنا کعب احبار رحمہ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر