میرے میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حدیث پاک کا مطلب یہ ہے کہ ہر عبادت نِیّت اور عمل سے مل کر قرار پاتی ہے اور نِیّت بھی ایک قسم کی نیکی ہے اور عمل بھی ایک طرح کی بھلائی ہے تو عمل کی نسبت نِیّت بہتر نیکی ہے کیونکہ نیت و عمل میں سے ہر ایک مقصود (رضائے الٰہی کے حصول ) پر اثر انداز ہوتا ہے البتہ عمل کی نسبت نِیّت کا اثر زیادہ ہوتا ہے چنانچہ حدیث پاک کا مطلب یہ ہوا کہ مومن کی نِیّت جو کہ عبادات میں سے ایک عبادت ہے اس کے عمل سے بہتر ہے جبکہ عمل بھی ایک اطاعت ہے غرض یہ ہے کہ بندے کو نِیّت اور عمل دونوں کا اختیار ہے اور یہ دونوں عمل ہیں اور ان دونوں میں سے نِیّت بہتر ہے۔
اور جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ نِیّت عمل سے کس طرح بہتر ہے تو اس بات کو وہی شخص سمجھ سکتا ہے جو دین کے مقصود اور اس کے طریقہ کار کی سمجھ رکھتا ہو اور یہ بھی جانتا ہو کہ مقصود تک پہنچنے کا کیا طریقہ ہے وہ بعض اثرات کو دوسرے بعض پر قیاس کرے تاکہ مقصود کی نسبت سے زیادہ ترجیح والے اثرات ظاہر ہوں۔
چنانچہ جو شخص یہ کہتا ہے کہ روٹی پھل سے بہترہے تو اسکا مقصد یہ ہے کہ جسمانی غذا ہونے کے اعتبار سے روٹی بہتر ہے اور اس بات کو وہی سمجھ سکتا ہے جو یہ جانتا ہو کہ غذا کا مقصد صحت اور بقاء حیات ہے اور غذاؤں کے مختلف اثرات ہیں چنانچہ وہ ایک کو دوسرے پر قیاس کر کے سمجھ سکتا ہے۔