Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
17 - 325
خیر نہیں اور محض نِیّت بہتر ہے اور ظاہر ہے کہ ترجیح تو ان امور میں ہوتی ہے جو خیر کے اعتبار سے مشترک ہوں۔
سب سے بہتر توجیہ :
میرے میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حدیث پاک کا مطلب یہ ہے کہ ہر عبادت نِیّت اور عمل سے مل کر قرار پاتی ہے اور نِیّت بھی ایک قسم کی نیکی ہے اور عمل بھی ایک طرح کی بھلائی ہے تو عمل کی نسبت نِیّت بہتر نیکی ہے کیونکہ نیت و عمل میں سے ہر ایک مقصود (رضائے الٰہی کے حصول ) پر اثر انداز ہوتا ہے البتہ عمل کی نسبت نِیّت کا اثر زیادہ ہوتا ہے چنانچہ حدیث پاک کا مطلب یہ ہوا کہ مومن کی نِیّت جو کہ عبادات میں سے ایک عبادت ہے اس کے عمل سے بہتر ہے جبکہ عمل بھی ایک اطاعت ہے غرض یہ ہے کہ بندے کو نِیّت اور عمل دونوں کا اختیار ہے اور یہ دونوں عمل ہیں اور ان دونوں میں سے نِیّت بہتر ہے۔ 

اور جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ نِیّت عمل سے کس طرح بہتر ہے تو اس بات کو وہی شخص سمجھ سکتا ہے جو دین کے مقصود اور اس کے طریقہ کار کی سمجھ رکھتا ہو اور یہ بھی جانتا ہو کہ مقصود تک پہنچنے کا کیا طریقہ ہے وہ بعض اثرات کو دوسرے بعض پر قیاس کرے تاکہ مقصود کی نسبت سے زیادہ ترجیح والے اثرات ظاہر ہوں۔

چنانچہ جو شخص یہ کہتا ہے کہ روٹی پھل سے بہترہے تو اسکا مقصد یہ ہے کہ جسمانی غذا ہونے کے اعتبار سے روٹی بہتر ہے اور اس بات کو وہی سمجھ سکتا ہے جو یہ جانتا ہو کہ غذا کا مقصد صحت اور بقاء حیات ہے اور غذاؤں کے مختلف اثرات ہیں چنانچہ وہ ایک کو دوسرے پر قیاس کر کے سمجھ سکتا ہے۔
دل کی غذا :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہم جانتے ہیں کہ عبادات دلوں کی غذا ہیں اور مقصد دلوں کی شفا اور بقاء اور آخرت کی سلامتی و سعادت مندی ہے یہ بھی مقصد ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ملاقات سے لطف اندوز ہوبلکہ مقصود اصلی تو یہی ہے کہ اللہ (عزوجل) سے ملاقات اور سعادت مندی حاصل کی جائے اور اللہ تعالیٰ کی ملاقات سے وہی شخص لطف اندوز ہو سکتا ہے جو اپنے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت اور اسکا عرفان لےکر دنیا سے رخصت ہو اور رب لم یزل کی محبت اسی شخص کے دل میں جاگزیں ہو سکتی ہے جو اسکی معرفت رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے اُنس وہی پاسکتا ہے جو اسکا طویل ذکر کرتا ہے چنانچہ اُنس دائمی طور پر ذکر کے ذریعے حاصل ہوتا ہے اور معرفت دائمی اللہ تعالیٰ کی قدرت میں غور کرنے سے حاصل ہوتی ہے اور معرفت کے بعد محبت ضرور آتی ہے لیکن دائمی ذکر و فکر کے لئے دل اسی وقت فارغ ہو سکتا ہے جب بندہ دنیاوی مشاغل سے فارغ ہو اور دنیوی مشغلوں سے فراغت اسی وقت ہوتی ہے جب خواہشات کو ترک کر دیا جائے۔
Flag Counter