Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
18 - 325
گویا سب سے پہلا مرحلہ فضول نفسانی خواہشات کو ترک کرنا ہے اس کے نتیجے میں دل ذکر کے لئے فارغ ہوجائے گا اور پھر ذکر پر دوام اختیار کرنے سے اﷲ (عزوجل) سے اُنس پیدا ہوگا اور اس کی قدرت پر غور کرنے سے معرفت حاصل ہوگی۔ پھر یہ معرفت رفتہ رفتہ محبت میں بدل جائے گی اور جو شخص اپنے رب (عزوجل) کی محبت میں سرشار ہو کر دنیا سے جائے گا وہ اس کی ملاقات کا شرف اور اخروی سعادت مندی ضرور پائے گا۔ چنانچہ جب بندے کو ان سب باتوں کی پہچان ہوجائے اور توفیق الٰہی (عزوجل) ساتھ ہو تو پھر بندہ نیکی کی طرف مائل ہوتا ہے اور نیکی کا ارادہ کرتا ہے برائی سے نفرت کرتا ہے اور اسے برا جانتا ہے اسطرح عقلمند آدمی پچھنے لگوانے اور خون نکلوانے پر راضی ہو جاتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ان کاموں میں اسکی صحت کی سلامتی ہے۔
استقامت کیلئے عمل ضروری ہے :
بہر حال جب کسی کام کی معرفت حاصل ہو جائے اور اس کا فائدہ مند ہونا معلوم جائے تو دل اس کام کو کرنے کی طرف مائل ہوتا ہے چنانچہ اب دل کے اس ارادے کو برقرار رکھنے کیلئے عمل شروع کر دینا ضروری ہے کیونکہ دل کی صفات اور ارادے کے تقاضے کے مطابق ہمیشگی عمل کے ذریعے غذا کی جگہ اختیار کر تی ہے یہاں تک کہ قلبی صفت مضبوط ہو جاتی ہے کیونکہ تجرے سے ثابت ہے کہ جو شخص علم یا کسی منصب کا خواہش مند ہو تو ابتداء میں اسکی خواہش کمزور ہوتی ہے۔

لیکن اگر وہ عملی طور پر اسے حاصل کرنے کے اقدامات کرے اور اس کیلئے مطلوبہ اعمال میں مشغول ہو جائے تو اس کا میلان مضبوط اور راسخ ہو جاتا ہے اور اب اسے اس کیفیت سے نکلنا مشکل نظر آتا ہے۔( گویا جو شخص علم کی راہ میں عملی اقدامات کرے وہ اسمیں ترقی کرتا جاتا ہے اور دل میں مزید علم حاصل کرنے کی خواہش بڑھتی چلی جاتی ہے اسی طرح اقتدار بھی)۔

اور اگر کوئی شخص اپنے مقصود کے تقاضے کے بر عکس کام کرے تو اس کی خواہش کمزور پڑ جاتی بلکہ بعض اوقات بالکل مٹ جاتی ہے۔(یعنی جس شخص کو گناہ کرنے کی شدید خواہش ہو لیکن اگر وہ اپنے آپ کو نیک کاموں مثلاً مدنی انعامات میں مصرو ف کر لے تو اسکی گناہ کی خواہش بلا آخر ختم ہو جائیگی)۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اسی طرح نیکی اور عبادت کا معاملہ ہے کے ان سے آخرت طلب کی جاتی ہے اور برائیوں سے آخرت مقصود نہیں ہوتی بلکہ دنیا کی خواہش کی جاتی ہے اور نفس کا اخروی سعادت کی طرف میلان اور اسے دنیا مقاصد سے پھیرنا دل کو ذکر و فکر کے لئے فارغ کرتا ہے نیز یہ بات اُسی وقت پختہ ہو تی ہے جب نیک کاموں پر ہمیشگی اختیار کی جائے
اور اعضاء کے گناہوں کی ترک کر دیا جائے کیونکہ دل اور دیگر اعضاء کا آپس میں گہرا تعلق ہے اور یہ دونوں ایک دوسرے سے متأثر ہوتے ہیں مثلا اگر اعضاء پرکوئی زخم لگے دل تکلیف محسوس کرتا ہے اور اگر کوئی بات دل کو تکلیف دے مثلا کسی عزیز کی موت تو اعضاء بھی اس سے متأثر ہوتے ہیں بدن کانپنے لگتا ہے اور رنگ بدل جاتا ہے ہاں ایک فرق ضرور موجود ہے کہ دل حاکم ہے اور دیگر اعضاء خدّام ہیں ۔نبی اکرم شاہ بنی آدم نور مجسم(صلی اﷲ تعالیٰ علیہ والہ وسلم  ) کا فرمان حکمت نشان ہے۔
''اِنَّ فِی الْجَسَدِ مُضْغَۃً اِذَا صَلُحَتْ صَلَحَ لَھَا سَائِرُ الْجَسَدِ''
ترجمہ: بلا شبہ جسم میں گوشت کا ایک لوتھڑا ہے کہ جب وہ ٹھیک ہوتا ہے تو سارا جسم درست رہتا ہے''۔

نیز امت کے غم خوار آقا صلی اﷲ تعالیٰ علیہ والہ وسلم  نے یہ دعا مانگی :
اَ للّٰھُمَّ اَصْلِحِ الرَّاعِیَ و الرَّعِیَّۃَ
ترجمہ: ''اے اللہ (عزوجل) نگران اور رعایا دونوں کو درست کردے'' (الاسرار المرفوعۃ ص ۶۷، حدیث ۲۳۵)

اور آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ والہ وسلم  نے نگران سے مراد دل لیا۔

نیز رب کائنات د کافرمان عبرت بار ہے؛
لَنۡ یَّنَالَ اللہَ لُحُوۡمُہَا وَلَا دِمَآؤُہَا وَلٰکِنۡ یَّنَالُہُ التَّقْوٰی مِنۡکُمْ ؕ
ترجمہ کنز الایمان : ''اللہ کو ہر گز نہ انکے گوشت پہنچتے ہیں نہ ان کے خون ہاں تمہاری پرہیزگاری اس تک باریاب ہوتی ہے'' ( پارہ ۱۷' سورہ حج' ۳۷)
اعمال کا مقصد :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! تقویٰ دل کی صفت ہے اور دل کیونکہ سارے جسم سے افضل ہے اس لئے اسکا عمل دیگر اعضاء کے عمل سے افضل ہونا چاہئے اور یہ بھی ضروری ہے کہ دل کے اعمال میں سب سے افضل نِیّت ہو کیونکہ یہ دل کا نیکی کی طرف جھکنا اور نیکی کا ارادہ کرنا ہے اور اعضاء کے ذریعے اعمال کرنے سے مقصد یہ ہوتا ہے کہ دل نیکی کا ارادہ کرنے کا عادی ہو جائے اور اسکا جھکاؤ بھلائی کی طرف پختہ ہو جائے تاکہ وہ دنیوی خواہشات سے فارغ ہو کر ذکر و فکر کی طرف توجہ بر قرار رکھے چنانچہ غرض کے اعتبار سے نِیّت ضرور بہتر ہے۔

مثلا کسی شخص کے معدے میں درد ہو تو اسکا علاج یوں کرتے ہیں اسکے سینے پر دوائی کا لیپ کیا جاتا ہے اور ایک طریقہ علاج یہ بھی ہے کہ اسکو ایسی دوائی پلائی جائے جو براہ راست معدے تک پہنچے تو دوسرا طریقہ پہلے کی بنسبت زیادہ بہتر
Flag Counter