Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
16 - 325
جانتا ہے کہ اگر اسے اطاعت کا خیال نہ ہوتا تب بھی محض دکھاوے کیلئے وہ یہ عمل نہ کرتا کیونکہ وہ تو یہ کام کرنے کا عادی ہے۔ تو اس قسم کی نِیّت میں تھوڑی بہت ملاوٹ ہو جاتی ہے اور اس قسم کو معاونت کہتے ہیں۔ تو دوسرا باعث رفیق ہوتا ہے یا شریک یا مددگار اور ہم اس بات کو اخلاص کے باب میں بیان کریں گے کیونکہ اس وقت ہمارا مقصد نِیّت کی اقسام کو بیان کرنا ہے کیونکہ عمل نِیّت کے تابع ہوتا ہے تو جیسی نِیّت ہوگی عمل بھی ویسا ہی شمار کیا جائے گا۔
نیت عمل سے بہتر :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !یعنی حدیث پاک مومن کی نِیّت اسکے عمل سے بہتر ہے کا کیا مطلب ہے سرکار ذی وقار دو عالم کے مالک و مختار باذن پروردگار (عزوجل) کا فرمان خوشبودار ہے :
نِیَّۃُ الْمُؤْمِنِ خَیْرٌ مِّنْ عَمَلِہٖ
ترجمہ: ''مومن کی نِیّت اسکے عمل سے بہتر ہے'' ۔(المعجم الکبیر للطبرانی، ج ۶، ص ۱۸۵، ۱۸۶، حدیث ۵۹۴۲)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! گویا سرکار دو عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ والہ وسلم  مومن کی نِیّت کو اسکے عمل پر ترجیح عطا فرمائی ہے اور یہ بات لائقِ توجہ ہے کہ بعض اوقات اس ترجیح کے بارے میں یہ خیال آتا ہے کہ نِیّت ایک مخفی عمل ہے جسے رب علیم عزوجل ہی جانتا ہے جبکہ عمل ظاہر ہے۔ اور چونکہ پوشیدہ عمل کو فضیلت حاصل ہوتی ہے اسلئے نِیّت کو عمل پر ترجیح دی گئی ہے اور یہ بات ٹھیک ہے۔ حالانکہ حدیث پاک میں دی گئی ترجیح سے یہ مراد نہیں ہے کیونکہ اگر کوئی شخص دل سے ذکر کرنے کی نِیّت کرے یا مسلمانوں کی بھلائی کے بارے میں سوچ بچار کرتا رہے تو حدیث پاک کے ظاھر کے اعتبار سے تفکر کے بجائے اسکی نِیّت بہتر ہونی چاہئے۔

کبھی یہ خیال آتا ہے کہ ترجیح کا سبب یہ ہے کہ نِیّت عمل کے آخر تک رہتی ہے جبکہ عمل کو دوام نہیں ہوتا لیکن یہ خیال کمزور ہے کیونکہ اس کا نتیجہ یہ ہونا چاہیئے کہ زیادہ عمل تھوڑے عمل کے مقابلے میں بہتر ہو حالانکہ ایسی بات نہیں کیونکہ نماز کے افعال کی نِیّت بعض اوقات دائمی نہیں ہوتی بلکہ چند لمحات پر مشتمل ہوتی ہے (یعنی تکبیر تحریمہ کہتے وقت)۔ جبکہ نماز کے اعمال طویل ہوتے ہیں اور حدیث پاک کے ظاھر کا تقاضہ یہ ہے کہ نِیّت اسکے عمل سے بہتر ہے (گویا تھوڑی سی نِیّت بہت سارے عمل سے بہترہے)۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اس حدیث پاک کا ایک مطلب اور بھی بیان کیا جاتا ہے کہ محض نِیّت اس عمل سے بہتر ہے جو نِیّت سے خالی ہو لیکن اسے حدیث پاک کی مراد قرار دینا بعید ہے کیونکہ نِیّت کے بغیر یا غفلت کے ساتھ عمل کرنے میں کوئی
Flag Counter