میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! ایک مرتبہ حضرت سیدنا عقبہ بن عامر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا یارسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نجات کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔
اَمْسِکْ عَلَیْکَ لِسَانَکَ وَلْیَمْسَکَ بَیْتُکَ وَابکِ عَلَی خَطِیئَتِکَ
ترجمہ : ''اپنی زبان کو روک رکھو' تمہارا گھر تمہیں کفایت کرے (بلا ضرورت باہر نہ جاؤ) اور اپنے گناہوں پر روؤ''(الترغیب والترہیب جلد ۴ ۲۳۲ کتاب التوبہ)
حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یارسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ! کیا آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی امت میں سے کوئی شخص بغیر حساب کے جنت میں جائے گا ؟ آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا۔
نَعَمْ مَنْ ذَکَرَ ذُنُوْبَہ' فَبَکیٰ
ترجمہ : ''ہاں جو شخص اپنے گناہوں کو یاد کرے اورروئے''
نبی کریم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا۔
مَامِنْ قَطْرَۃٍ اَحَبُّ اِلَی اﷲِ تَعَالَی مِنْ قَطْرَۃِ دَمْعٍ مِنْ خَشْیَۃ
اﷲِ تَعَالٰی اَوْقَطْرَۃِ دَمٍ اُھْرِقَتْ فِی سَبِیْلِ اﷲِ سُبْحَانَہُ وَتَعَالیٰ
ترجمہ : ''اﷲ تعالیٰ کو اس قطرے سے بڑھ کر کوئی قطرہ پسند نہیں جو اﷲ تعالیٰ کے خوف سے بہتا ہے یا خون کا وہ قطرہ