| فیضانِ اِحیاءُ العُلوم |
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! سیدنا امام غزالی علیہ الرحمۃ خشیت الہٰی کی فضیلت کے سلسلے میں مزید گفتگو فرماتے ہوئے کہتے ہیں۔ بلکہ میں کہتا ہوں کہ جو کچھ خشیت الٰہی کی وجہ سے رونے کی فضیلت کے سلسلے میں آیا ہے وہ دراصل خشیت کی فضیلت کا اظہار ہے کیونکہ رونا ' خشیت کا نتیجہ ہے چنانچہ اﷲ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا۔
فَلْیَضْحَکُوۡا قَلِیۡلًا وَّلْیَبْکُوۡا کَثِیۡرًا ۚ
ترجمہ کنز الایمان : ''تو انہیں چاہئے کہ تھوڑا ہنسیں اور بہت روئیں''(پارہ۱۰ 'سوره توبہ 'آیت ۸۲) اور ارشاد خداوندی ہے۔
یَبْکُوۡنَ وَیَزِیۡدُہُمْ خُشُوۡعًا ﴿۱۰۹﴾ٛ
ترجمہ کنز الایمان : ''روتے ہوئے اور یہ قرآن ان کے دل کا جھکنا بڑھاتا ہے '' (پارہ۱۵ 'سوره اسرا ئیل ( کو بنی اسرائیل بھی کہتے ہیں) آیت ۱۰۹) اور ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
اَفَمِنْ ہٰذَا الْحَدِیۡثِ تَعْجَبُوۡنَ ﴿ۙ۵۹﴾وَ تَضْحَکُوۡنَ وَلَا تَبْکُوۡنَ ﴿ۙ۶۰﴾وَ اَنۡتُمْ سَامِدُوۡنَ ﴿۶۱﴾
ترجمہ کنز الایمان : '' تو کیااس بات سے تم تعجب کرتے ہو اور ہنستے ہو اور روتے نہیں اور تم کھیل میں پڑے ہو''(پارہ۲۷ ' سوره النجم 'آیت ۵۹تا ۶۱)
خوف کا آنسو :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !اسی سلسلے میں نبی اکرم 'تاجدارِ عرب و عجم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔
وَمَامِنْ عَبْدٍ مُؤْمِنٍ تَخْرُجُ مِنْ عَیْنَیْہِ دَمْعَۃٌ وَاِنْ کَانَتْ مِثْلَ رَأسِ الذُّبَابِ مِنْ خَشْیَۃِ اﷲِ تَعاَلیٰ ثُمَّ تُصِیْبُ شَیْئًا مِنْ حَرِّ وَجْھِہِ اِلاَّحَرَّمَہُ االلہُ۔
ترجمہ : ''جس مومن کی آنکھوں سے اﷲ تعالیٰ کے خوف سے آنسو نکلتا ہے اگرچہ مکھی کے سر کے برابر ہو پھر اس کےچہرے کی گرمی اسے پہنچتی ہے تو اﷲ تعالیٰ اسے جہنم پر حرام کردیتا ہے'' (شعب الایمان جلد اول ص ۴۹۱ حدیث ۸۰۲)
اِذَا اقْشَعَرَّ قَلْبُ الْمُوْمِن مِنْ خَشْیَۃِ اﷲِ تَحَاتَّتْ عَنْہُ خَطَایَاہُ کَمَا یَتَحَاتُّ مِنَ الشَّجَرَۃِ وَرَقُھَا۔