Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
166 - 325
خوف و امید کی تعریف :
اس کی وجہ یہ ہے کہ امید اور خوف کی ایک شرط یہ ہے کہ ان دونوں کا تعلق اس چیز کے ساتھ ہوتا ہے جس میں شک ہو کیونکہ جو چیز یقینی ہو اس کی نہ تو امید ہوتی ہے اور نہ ہی خوف۔ پس وہ پسندیدہ شے جس کے ملنے کا امکان ہو اس کے فوت ہونے کا امکان بھی ہوتاہے پس اس کو پانے کا خیال دل کو راحت پہنچاتا ہے اور یہی امید ہے نیز اس کے ضائع ہونے کا اندیشہ دل کو پریشان کرتا ہے اور اسی کو خوف کہتے ہیں اور جب وہ بات جس کا انتظار کیا جا ئے مشکوک ہو تو دونوں امکانات لازماً ایک دوسرے کے مقابل ہوتے ہیں ہاں شک کی دو طرفوں میں سے ایک' بعض اوقات کسی سبب کی وجہ سے راجح ہوتی ہے اور اسے ظن کہتے ہیں اور یہ بات' اس وقت ہوگی جب ایک خیال دوسرے پر غالب آجائے ۔ 

بہرحال جب پسندیدہ شے کے ملنے کا گمان غالب ہو تو امید قوی ہوجاتی ہے اور خوف پوشیدہ ہوجاتا ہے اور اسی طرح اس کے برعکس بھی ہوتا ہے اور دونوں صورتوں میں یہ دونوں ایک دوسرے کیلئے لازم و ملزوم ہیں اسی لئے اﷲ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا۔
وَ یَدْعُوۡنَنَا رَغَبًا وَّ رَہَبًا ؕ
ترجمہ کنز الایمان : ''اور ہمیں پکارتے تھے امید اور خوف سے''(پارہ۱۷' سوره انبیاء 'آیت ۹۰)

اور ارشاد فرمایا ۔
یَدْعُوۡنَ رَبَّہُمْ خَوْفًا وَّ طَمَعًا ۫
ترجمہ کنز الایمان : ''اور اپنے رب کو پکارتے ہیں ڈرتے اور امید کرتے''(پارہ۲۱ ' سوره سجدہ 'آیت ۱۶)

مزید ارشاد فرمایا۔
مَا لَکُمْ لَا تَرْجُوۡنَ لِلہِ وَقَارًا ﴿ۚ۱۳﴾
ترجمہ کنز الایمان : '' تمہیں کہا ہوا اﷲ سے عزت حاصل کرنے کی امید نہیں کرتے''(پارہ۲۹ 'سوره نوح 'آیت ۱۳)

یعنی تم کیوں نہیں ڈرتے اور قرآن پاک میں بے شمار مقامات پر رجاء خوف کے معنی میں آیا ہے کیونکہ یہ دونوں ایک دوسرے کو لازم ہیں اس لئے کہ عربوں کی عادت ہے کہ وہ کسی چیز کی تعبیر اس کے لازم سے بھی کرتے ہیں۔
Flag Counter