ترجمہ کنز الایمان : ''اور وہ جو دیتے ہیں جو کچھ دیں اور ان کے دل ڈررہے ہوتے ہیں۔''(پارہ۱۸ ' سوره مومنون آیت۶۰)
تو نبی اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا۔
لاَبَلِ الرَّجُلْ یَصُوْمُ وَیُصَلِّیْ وَیَتَصَدَّقُ وَیَخَافُ اَنْ لاَّیُقْبَلَ مِنْہُ
ترجمہ : ''نہیں' بلکہ وہ شخص مراد ہے جو روزہ رکھتا ہے' نماز پڑھتا اور صدقہ کرتا ہے اور ڈرتا
ہے کہ کہیں اس کی عبادت ضائع نہ ہوجائے ''(جامع ترمذی ص ۴۵۵' ابواب التفسیر)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اﷲ تعالیٰ کی خفیہ تدبیر اور عذاب سے امن کے بارے میں وارد وعیدات بے شمار ہیں اور یہ سب ایک طرح سے خوف کی تعریف ہے کیوں کہ کسی چیز کی مذمت اس کی ضد کی تعریف ہے جو اس کی نفی کرتی ہے اور خوف کی ضدامن ہے جیسے امید کی ضد مایوسی ہے اور جس طرح مایوسی کی مذمت' امید کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے اسی طرح بے خوفی کی مذمت' خوف کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے جو اس کی ضد ہے بلکہ ہم کہتے ہیں کہ جو کچھ امید کی فضیلت میں وارد ہے وہ فضیلتِ خوف کی دلیل ہے کیوں کہ یہ دونوں ایک دوسرے کو لازم ہیں اس لئے کہ جو شخص کسی محبوب چیز کی امید رکھتا ہے ضروری ہے کہ وہ اس کے ضائع ہونے سے ڈرے اور اگر اسے اس کے فوت ہونے کا خوف نہ ہو تو وہ اس سے محبت کرنے والا شمار نہیں ہوگا ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !پتہ چلا کہ خوف اور امید ایک دوسرے کیلئے لازم و ملزوم ہیں ان کی جدائی محال ہے ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ دونوں کے جمع ہونے کی صورت میں ایک' دوسرے پر غالب ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دل ان میں سے ایک میں مشغول ہو اور فی الحال دوسرے کی طرف متوجہ نہ ہو ۔