Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
164 - 325
ترجمہ : ''یعنی جوشخص اﷲ لسے ڈرتا ہے ہر چیز اس سے ڈرتی ہے اور جو شخص اﷲ تعالیٰ کے غیر سے ڈرتا ہےاﷲ تعالیٰ اسے ہر چیز سے خوف زدہ کرتا ہے''(کنز العمال جلد ۳ ص ۱۵۱ حدیث ۵۹۱۵)

نیز فرمانِ مصطفےٰ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم  ہے
اَتَمُّکُمْ عَقْلاً اَشَدُّکُمْ خَوْفاً لِلّٰہِ وَاَحْسَنُکُمْ فِیْماَ اَمَر االلہُ تَعَالیٰ بِہٖ وَنَھَی عَنْہُ نَظْراً
ترجمہ : ''یعنی تم میں سے سب سے زیادہ کامل عقل والا وہ ہے جو اﷲ(عزوجل)سے سب سے

زیادہ ڈرتا ہے اور جو اﷲ (عزوجل) کے اوامرونواہی میں غور کرتا ہے وہ تم سب میں اچھا ہے''۔

حضرت سیدنا یحییٰ بن معاذ رحمہ اﷲ تعالیٰ فرماتے مسکین انسان اگر جہنم سے اسی طرح ڈرے جس طرح فقر سے ڈرتا ہے تو جنت میں داخل ہوجائے ۔

حضرت سیدنا ذوالنون رحمہ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں جو شخص اﷲ لسے ڈرتا ہے اس کا دل پگھل جاتا ہے اور اﷲ (عزوجل) کے لئے اس کی محبت مضبوط ہوجاتی ہے نیز اس کی عقل صحیح ہوجاتی ہے۔

حضرت سیدنا ذوالنون رحمہ اﷲ تعالیٰ نے ہی فرمایا کہ خوف کا امید کے مقابلے میں ز یادہ ہونا مناسب ہے کیونکہ جب امید غالب ہو تو دل میں تشویش پیدا ہوتی ہے۔
نیک بختی کی علامت :
حضرت سیدنا ابو الحسن الضریر رحمہ اﷲ تعالیٰ فرماتے تھے نیک بختی کی علامت بدبختی سے ڈرنا ہے کیونکہ خوف اﷲ (عزوجل) اور بندے کے درمیان ایک لگام ہے جب اس کی لگام ٹوٹ جائے تو وہ ہلاک ہونے والوں کے ساتھ ہلاک ہوجاتا ہے۔

اسی طرح ایک مرتبہ حضرت سیدنا یحییٰ بن معاذ رحمہ اﷲ تعالیٰ سے پوچھا گیا کہ کل (بروز قیامت) مخلوق میں سے کون زیادہ بے خوف ہوگا؟ انہوں نے فرمایا جو آج زیادہ ڈرتا ہے جبکہ حضرت سیدنا سہیل رحمہ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں تم اس وقت تک خوف تک رسائی حاصل نہیں کرسکتے جب تک حلال نہ کھاؤ۔ 

مشہور تابعی حضرت سیدنا حسن بصری رحمہ اﷲ تعالیٰ سے پوچھا گیا اے ابو سعید ! ہم کیا کریں ہم کچھ لوگوں کے ساتھ بیٹھتے ہیں جو ہمیں ڈراتے ہیں حتی کہ ہمارے دل پگھلنے کے قریب ہوجاتے ہیں انہوں نے فرمایا اﷲ (عزوجل) کی قسم اگر تم ایسے لوگوں کی صحبت ضروراختیار کرو جو تمہیں ڈراتے ہیں تاکہ بروزِ قیامت تمہیں امن حاصل ہوجائے تو یہ بات اس سے بہتر ہے کہ تم ایسے لوگوں کی صحبت اختیار کرو جو تمہیں بے خوفی کی راہ دکھاتے ہیں یہاں تک کہ تمہیں بروزِ قیامت خوف کا سامنا
Flag Counter