| فیضانِ اِحیاءُ العُلوم |
بھلائی کی طرف اس کی راہنمائی کرتا ہے۔ حضرت سیدنا شبلی رحمہ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا میں جس دن اﷲ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں اسی دن حکمت وعبرت کا ایسادروازہ دیکھتا ہوں جو پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ حضرت سیدنا یحییٰ بن معاذ رحمہ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں جو شخص کوئی برائی کرتا ہے اسے دو اچھائیاں ملتی ہیں ایک عذاب کا خوف اور دوسری معافی کی امید جیسا کوئی لومڑی دوشیروں کے درمیان ہوتی ہے۔ حضرت سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے متعلق حدیث میں ہے کہ ہر شخص سے حساب ہوگا اور جو کچھ اس کے پاس ہے اس کی چھان بین ہوگی سوائے اہل ورع کے' کیوں کہ مجھے ان سے حیا آتی ہے۔ ورع اور تقویٰ کے لئے خوف شرط ہے اگر تم خوف سے خالی ہو تو تم ان ناموں کے ساتھ موسوم نہیں ہوسکتے۔ چنانچہ ارشاد خداوندی ہے۔
سَیَذَّکَّرُ مَنۡ یَّخْشٰی ﴿ۙ۱۰﴾
ترجمہ کنز الایمان : ''عنقریب نصیحت مانے گا جو ڈرتا ہے''(پارہ ۳۰' سوره الاعلیٰ' آیت ۱۰) اور ارشاد خداوندی ہے۔
وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتٰنِ ﴿ۚ۴۶﴾
ترجمہ کنز الایمان : ''اور جو اپنے رب کے حضور کھڑ ے ہونے سے ڈرے اسکے لئے دو جنتیں ہیں'' (پارہ ۲۷'سوره رحمن 'آیت ۴۶) نیزرسول اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا اﷲ (عزوجل) ارشاد فرماتا ہے۔
لَااَجْمَعُ عَلَی عَبْدِیْ خَوْفَیْنِ وَلاَ اَجْمَعُ لَہٗ اَمْنِنْ فَاِنَّ اَمَّنَنِیْ فِی الدُّنْیَا اُخَفْتُہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَاِنْ خَافَنِیْ فِی الدُّنْیَا اَمَّنْتُہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔
ترجمہ : ''مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم ہے میں اپنے بندے پر دو خوف جمع نہیں کروں گا اور نہ اس کے لئے دو امن جمع کروں گا اگر وہ دنیا میں مجھ سے بے خوف رہے تو میں قیامت کے دن اسے خوف میں مبتلا کروں گا اور اگر وہ دنیا میں مجھ سے ڈرتا رہے تو میں قیام کے دن اسے امن میں رکھوں گا''۔ (شعب الایمان جلد اول ص ۴۸۳ حدیث ۷۷۷)
رسول اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا۔
مَنْ خَافَ اللہَ خَافَہ' کُلُّ شَیئٍ وَمَنْ خَافَ غَیْرَ اﷲِ خَوَّفَہُ اللہُ مِنْ کُلِّ شَیْئٍ