| فیضانِ اِحیاءُ العُلوم |
تقویٰ ہے اور ان دونوں باتوں کی فضیلت کے سلسلے میں جو کچھ آیا ہے وہ ظاہر ہے ۔ حتی کہ عاقبت،تقویٰ کے ساتھ مختص کردی گئی ہے۔ جیسا کہ حمد ، اﷲ تعالیٰ کے ساتھ اور صلوٰۃ، رسول اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ مخصوص ہے یعنی کہا جاتا ہے۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ وَالْعَاقِبَۃُ لِلْمُتَّقِیْنَ وَالصَّلوٰۃُ عَلَی سَیِّدِنَا مُحَمِّدٍ صَلَّی االلہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَاٰلہِ اَجْمَعِیْنَ۔
ترجمہ:'' تمام تعریفیں اﷲ (عزوجل) کے لئے ہیں اور عافیت (اچھا انجام) پرہیز گار لوگوں کے لئے اور صلوٰۃ (رحمت) ہمارے سردار حضرت سیدنا محمد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اور آپ کی تمام آل پر ہو''۔ اور اﷲ (عزوجل) نے تقویٰ کو اپنے ساتھ خاص کیا ،چنانچہ ۔ ارشاد خداوندی (عزوجل) ہے۔
لَنۡ یَّنَالَ اللہَ لُحُوۡمُہَا وَلَا دِمَآؤُہَا وَلٰکِنۡ یَّنَالُہُ التَّقْوٰی مِنۡکُمْ ؕ
ترجمہ کنز الایمان : ''اﷲکو ہرگز نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں نہ ان کے خون ہاں تمہاری پرہیزگاری اس تک باریاب ہوتی ہے'' (پارہ۱۷' سوره حج' آ یت ۳۷) اسی لئے اﷲ (عزوجل) نے ارشاد فرمایا۔
اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنۡدَ اللہِ اَتْقٰىکُمْ ؕ
ترجمہ کنز الایمان : ''بیشک اﷲ کے یہاں تم میں زیادہ عزت والا وہ جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہے''(پارہ ۲۶' سوره حجرات 'آیت ۱۳) بے شک تم میں سے زیادہ معزز وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔ اوراولین و آخرین کو تقویٰ کا حکم دیا ۔چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
وَلَقَدْ وَصَّیۡنَا الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الْکِتٰبَ مِنۡ قَبْلِکُمْ وَ اِیَّاکُمْ اَنِ اتَّقُوا اللہَ ؕ
ترجمہ کنز الایمان : ''اور بیشک تاکید فرما دی ہے ہم نے ان سے جو تم سے پہلے کتاب دیئے گئے اور تم کو کہ اﷲ سے ڈرے رہو '' ۔ (پارہ۵ ' سوره نساء 'آیت ۱۳۱) نیزارشاد فرمایا۔
وَخَافُوۡنِ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤْمِنِیۡنَ ﴿۱۷۵﴾