Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
160 - 325
'آیت ۱۵۴)

اور ارشاد فرمایا۔
اِنَّمَا یَخْشَی اللہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمٰٓؤُا ؕ
ترجمہ کنز الایمان : ''اﷲ سے اس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں''(پارہ۲۲' سوره  فاطر 'آیت ۲۸)

بے شک اﷲ(عزوجل) سے اس کے بندوں میں سے علماء ہی ڈرتے ہیں۔

اﷲ(عزوجل) نے ان کی خشیت و خوف کی وجہ سے ان کو علم سے موصوف فرمایا۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
رَضِیَ اللہُ عَنْہُمْ وَ رَضُوۡا عَنْہُ ؕ ذٰلِکَ لِمَنْ خَشِیَ رَبَّہٗ ٪﴿۸﴾
ترجمہ کنز الایمان : ''اﷲ ان سے راضی اوروہ اس سے راضی یہ اس کے لئے ہے جو اپنے رب سے ڈرے''(پارہ ۳۰' سوره  البینہ 'آیت ۸)

تو جو باتیں فضیلتِ علم پر دلالت کرتی ہیں وہ خوف کی فضیلت پر بھی دلالت کرتی ہیں کیوں کہ خوف، علم سے ہی حاصل ہوتا ہے اسی لئے حضرت سیدنا موسی  کے  بارے میں آیا ہے کہ خائفین کو''رفیق اعلیٰ ''حاصل ہوگا۔جس میں ان کے ساتھ کوئی شریک نہ ہوگا۔ تو دیکھو کس طرح اﷲ (عزوجل) نے رفیق اعلیٰ (اﷲعزوجل) کی رفاقت کے سلسلے میں ان کوانفرادیت عطا فرمائی اس کی وجہ یہ ہے کہ خائفین دراصل علماء ہیں اور علماء کو انبیاء کرام علیہم السلام کی رفاقت کا مرتبہ حاصل ہے کیونکہ وہ انبیاء کرام علیہم السلام کے وارث ہیں اور رفیق اعلیٰ (عزوجل) کی رفاقت انبیاء کرام علیہم السلام اور ان لوگوں کے لئے ہے جو ان کے ساتھ ملحق ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ جب نبی اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وآلہ و صحبہ وسلم کو مرض الموت میں دنیا میں باقی رہنے اور بارگائہ خداوندی میں حاضری کے درمیان اختیار دیا گیا تو آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا۔
اَسْئَالُکَ الرَّفِیْقَ الْاَعْلیٰ
ترجمہ : ''یا اﷲ (عزوجل) ! میں تجھ سے رفیق اعلیٰ کا سوال کرتا ہوں''(صحیح بخاری جلد ۲ ص ۹۶۴ کتاب الرقاق)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اب اگر خوف کی بنیاد کو دیکھا جائے تو وہ علم ہے اور اس کے نتیجے کو دیکھیں تو وہ ورع اور
Flag Counter