جاننا چاہئے کہ خوف کی فضیلت بعض اوقات غور وفکر سے معلوم ہوتی ہے اور بعض اوقات آیات و احاد یث سے ۔
جہاں تک غور وفکر کا تعلق ہے تو اس کا راستہ یہ ہے کہ کسی چیز کی فضیلت اتنی ہی ہے جس قدر وہ آخرت میں اﷲ (عزوجل) کی ملاقات کی سعادت تک پہنچانے میں مدد کرتی ہے ۔کیونکہ سعادت کے سوا کوئی مقصوداصلی نہیں اور بندے کی سعادت یہی ہے کہ اسے اپنے مولیٰ سے ملاقات اور قرب کا شرف حاصل ہو۔ تو جو عمل اس سعادت پر معاون ہو اس کے لئے فضیلت ہوتی ہے اور فضیلت مقصد کے اعتبار سے ہوتی ہے اور یہ بات ظاہر ہے کہ آخرت میں رب (عزوجل) سے ملاقات کی سعادت حاصل کرنے کے لئے دنیا میں اسکی محبت کا حصول ضروری ہے۔
اور محبت کا حصول معرفت کے بغیر نہیں ہوتا اور معرفت کے لئے دائمی فکر ضروری ہے اور اللہ (عزوجل) سے مانوس ہونے کے لئے محبت اور ذکر اللہ (عزوجل) پر ہمیشگی لازمی ہے اور ذکر و فکر پر مواظبت اسی وقت ہوسکتی ہے جب دل سے دنیا کی محبت منقطع ہوجائے اور اس انقطاع کے لئے دنیوی لذتوں اورخواہشات کا خاتمہ انہیں خوف خدا (عزوجل) کی آگ میں جلا کر ہی ہوسکتاہے کسی دوسری چیز کے ذریعے نہیں ۔ لہٰذاجب خوف پیدا ہو گا تونفسانی خواہشات ختم ہونگی اور انکے خاتمے پر دل سے دنیا کی محبت جاتی رہے گی ۔ دنیا کی محبت کے خاتمے کے بعد ذکراﷲ(عزوجل) پر مواظبت نصیب ہو گی اور کثرتِ ذکر سے اﷲ(عزوجل)سے انس پیدا ہو گا جو کہ بعد میں معرفت اور پھر محبت میں تبدیل ہو جائے گا گویا خوف محبت کی پہلی سیڑھی ہے ۔
چنانچہ خوف شہوات کو جلانے والی آگ ہے اور وہ خوف جس قدر شہوات کو جلاتا ہے اسی قدر اسکی کی فضیلت ہوتی ہے اس طرح جس قدر وہ گناہوں سے روکتا اور عبادات کی رغبت پیدا کرتا ہے اسی قدر اس کی فضیلت ہوتی ہے اور یہ فضیلت خوف کے مختلف درجات کے اعتبار سے مختلف ہوتی ہے جیسا کہ پہلے بیان ہوا۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! خوف میں فضیلت کیوں نہ ہوجبکہ اس کے ذریعے عفت، ورع، تقویٰ اور مجاہدہ حاصل ہوتا ہے جو کہ اچھے اور قابل تعریف اعمال ہیں اور اﷲ(عزوجل) کے قرب کا ذریعہ ہیں۔
آیات واحادیث کے ذریعے اس کی فضیلت کے بیان کے سلسلے میں اتنا کہہ دینا کافی ہے کہ خوف کی فضیلت میں بے شمار آیات و احادیث آئی ہیں اور خائفین کے لئے اﷲ (عزوجل) نے ہدایت،رحمت، علم اور رضوان کو جمع فرمایا اور یہ تمام اموار اہل جنت کے مقامات کو جمع کرتے ہیں، چنانچہ آیات کریمہ ملاحظہ فرمائیے:
اﷲ (عزوجل) نے ارشاد فرمایا۔