| فیضانِ اِحیاءُ العُلوم |
اسی طرح ڈاکٹر کسی شخص کو کھانا چھوڑنے کا حکم دیتا ہے اور اب اتفاق سے یوم عرفہ یعنی ۹ ذی الحجۃ کی دن آجاتا ہے تو اب یہ شخص روزہ رکھتا ہے اور جانتا ہے اور ۹ ذی الحجۃ کا دن نہ بھی ہوتا تب بھی وہ پر ہیز کی بناء پر کھانا نہ کھاتا اور اگر پرہیز کا مسئلہ نہ ہوتا تو یوم عرفہ کی وجہ سے کھانا نہ کھاتا ۔ چنانچہ اب دونوں سبب جمع ہیں تو جب وہ اس کام کی طرف بڑھتا ہے تو دوسرا سبب پہلے کا رفیق بنتا ہے تو اس صورت کو ہم مرافقت کا نام دیتے ہیں کیونکہ دونوں سبب ایک دوسرے کے رفیق ہیں۔
(۳) دو کمزور باعث :
یعنی جب دونوں سبب الگ الگ کافی نہ ہوں لیکن جب جمع ہو جائیں تو اعضاء کی قدرت کو متحرّک کر سکتے ہوں مثلا دو کمزور آدمی ایک چیز کو مل کر تو اٹھا سکتے ہیں لیکن الگ الگ نہیں اٹھا سکتے۔ اور اس مثال کو یوں بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ کسی شخص کا مالدار رشتے دار اس سے ایک درہم مانگے اور وہ اسے نہ دے لیکن کوئی اجنبی مانگے تو پھر بھی نہ دے البتہ کوئی غریب رشتے دار مانگے تو اسے دے دے تو گویا دینے والے کے ارادے کا باعث قرابت اور فقر دونوں کا مجموعہ ہے ( یعنی شخصِ مذکورصرف اپنے محتاج قریبی رشتے داروں کو ہی دینے پر آمادہ ہے کسی اور کو نہیں)۔ اسی طرح ایک شخص لوگوں کے سامنے ثواب اور تعریف کی غرض سے صدقہ کرتا ہے لیکن تنہائی میں محض حصول ثواب کیلئے صدقہ نہیں کرتا اور اگر کسی جگہ صدقہ کرنا باعث ثواب نہ ہو تب بھی محض دکھاوے کیلئے صدقہ نہیں کرتا (گویا اس شخص کا مقصد ثواب اور تعریف دونوں حاصل کرنا ہے یہ شخص کسی ایک پر اکتفاء نہیں کرتا)۔ اس قسم کو مشارکت کہتے ہیں۔
(۴) مددگار باعث:
یعنی جب ایک باعث مستقل ہو جو تنہا بھی عمل کر اسکتا ہو جبکہ دوسرا مستقل نہیں لیکن جب اسے پہلے کے ساتھ ملایا جائے تو اسکا مدد گار بن کر آسانی پیدا کر دے۔ مثلا اگر کوئی طاقت ور آدمی کوئی بوجھ اٹھانا چاہے تو خود بھی اٹھا سکتا ہے لیکن کوئی اور کمزور اسکا مددگار بن جائے تو اب طاقتور آدمی کو کچھ آسانی میسر آجاتی ہے ۔ لیکن وہ کمزور آدمی بذات خود وہ بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔ اپنے موضوع کے اعتبار سے ہم اسکی مثال یوں دے سکتے ہیں ایک شخص جو نماز اور صدقہ کا عادی ہے اب اتفاق سے کچھ لوگ آگئے تو انکے دیکھنے کی وجہ سے اسے یہ دونوں کام کرنے میں زیادہ آسانی محسوس ہوئی۔ حالانکہ وہ دل سے جانتا ہے کہ اگر لوگ نہ بھی دیکھیں تب بھی وہ اپنے دونوں کام پورے کرتا اور وہ اس بات کوبھی