Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
158 - 325
خوف یا اﷲ(عزوجل) کے سامنے کھڑا ہونے کی ہیبت،پردہ دری سے حیاء ،چھوٹی چھوٹی باتوں کے بارے میں سوال، پل صراط اور اس کی کاٹ کا خوف ،اس کو عبور کرنے کا خوف ،جہنم کے جوش مارنے اور اس کے ہولناک منظر کا خوف ۔جنت جو نعمتوں کا گھر اور ہمیشہ رہنے والی حکومت ہے،سے محرومی کا خوف درجات کی کمی کا خوف یا اﷲ (عزوجل) سے حجاب کا خوف ۔۔۔۔۔۔

یہ تمام اسباب ذاتی طور پر ناپسند ہوتے ہیں اور یہ بھی لازماً مقاماتِ خوف ہیں اس سلسلے میں بھی خوف کھانے والوں کے حالات مختلف ہیں اور سب سے بڑا مرتبہ فراق اور اﷲ (عزوجل) سے حجاب میں ہونے کا خوف ہے اور یہ عارفین کا خوف ہے اور جو کچھ اس سے پہلے ہے وہ عالمین ' صالحین' زاہدین اور عام لوگوں کا خوف ہے اور جس شخص کی معرفت کا مل نہ ہو اس کے لئے بصیرت نہیں کھلتی، اسے لذتِوصال کا شعور حاصل نہیں ہوتا اور نہ ہی اسے بُعدو فراق سے پہنچنے والے دکھ کا اندازہ ہوتا ہے ۔

چنانچہ جب اس کے سامنے ذکر کیا جائے کہ عارف جہنم سے نہیں ڈرتا وہ تو اللہ (عزوجل) اور اسکے درمیان پیدا ہونے والے حجاب سے ڈرتا ہے تو وہ اس بات کو دل سے ناپسند کرتا ہے اور اس پر دل ہی دل میں تعجب کرتا ہے اور ہوسکتا ہے کہ اگر شریعت نے اس کو منع نہ کیا ہو تووہ زبان سے اس دیدار کا انکار ہی کر دے چنانچہ اس کا زبان سے اعتراف کرنا ضرورت تقلید کے تحت ہے ورنہ اس کا باطن اس کی تصدیق نہیں کرتا کیونکہ وہ تو پیٹ شرمگاہ اور آنکھ کی لذت کوہی جانتا ہے جب وہ طرح طرح کے رنگوں اور خوبصورت چہروں کو دیکھتا ہے۔

لیکن عارفین کو جو لذت حاصل ہوتی ہے اس میں کوئی دوسرا شریک نہیں ہوتا اور جو لوگ اس بات کے اہل نہیں ہیں ان کے سامنے اس بات کی تفصیل اور تشریح بیان کرنا حرام ہے اور جو اہل ہے وہ خودبخود دیکھ لیتا ہے اسے کسی دوسرے کی طرف سے تشریح کی حاجت نہیں ہے۔

یہ اقسام خائفین کے خوف کے مطابق ہوتی ہیں اورہم اﷲ(عزوجل) کے کرم کے صدقے اس سے توفیق کا سوال کرتے ہیں۔
فصل ۴

                   فضیلت خوف اور اس کی ترغیب:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اس مقام پر امام غزالی علیہ رحمۃ الباری خوف کی فضیلت اور اسکی ترغیب بیان کرنا چاہتے ہیں، چنانچہ تلقین غزالی علیہ رحمۃ الباری کا خلاصہ کچھ یوں ہے۔
Flag Counter