| فیضانِ اِحیاءُ العُلوم |
جلال کی وجہ سے اس سے ڈرا جائے پس جو شخص اﷲ (عزوجل) کی فرمان برداری کرتا ہے وہ اس لئے اطاعت کرتا ہے کہ اﷲ (عزوجل) نے اس پر ارادئہ اطاعتِ مسلّط کردیا اور اسے طاقت عطا فرمائی اور جس نے نافرمانی کی اس نے اس وجہ سے کی کہ عدل فرما کر اسے اسکے نفس کے حوالے کردیا گیا ہے ۔
صفات کے حوالے سے خوف :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائيو !اﷲ لکی صفات کے حوالے سے خوف کو سمجھنے کے لئے ایک مثال پیش کی جاتی ہے اس کے بغیر سمجھنا ممکن نہیں اگر شریعت کی اجازت نہ ہوتی تو کوئی بھی صاحبِ بصیرت شخص اس کے ذکر کی جراء ت نہ کرسکتا حدیث شریف میں ہے کہ اﷲ (عزوجل) نے حضرت سیدنا داؤد علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی '' اے داؤد ! مجھ سے اس طرح ڈرو جس طرح پھاڑنے والے درندے سے ڈرتے ہو۔'' اس مثال سے بات سمجھ آجائے گی اگرچہ تقدیر کے پوشیدہ راز صرف اس کے اہل لوگوں پر منکشف ہوتے ہيں۔
وضاحت :
حاصل کلام یہ ہے کہ درندے سے اس لئے نہیں ڈرتے کہ ہم نے پہلے اس کا کوئی جرم کیا ہے بلکہ اس کی صفت' اس کی پکڑ اس کے رعب وبدبہ اور ہیبت کی وجہ سے ڈرتے ہیں اور اس لئے کہ وہ جو کچھ بھی کرتا ہے اس کی پرواہ نہیں کرتا اگر درندہ کسی کو ہلاک کردے تو اس کے دل میں کوئی نرمی پیدا نہیں ہوتی اور نہ ہی وہ اس قتل پر دکھ محسوس کرتا ہے اور اگر وہ تمہیں چھوڑ دتیا ہے تو تم پر شفقت کرتے ہوئے اور تمہاری روح کو باقی رکھنے کے لئے نہیں چھوڑتا بلکہ تم اس کے نزدیک معمولی شمار ہوتے ہو تم زندہ ہو یا مردہ وہ تمہاری طرف توجہ نہیں کرتا بلکہ اس کے نزدیک تمہارے جیسے ایک ہزار افراد کو ہلاک کرنا اور ایک چیونٹی کو قتل کرنا ایک جیسا ہے کیوں کہ اس سے اس کی درندگی میں کوئی کمی نہیں آتی اور نہ ہی اس کی صفت مثلاً طاقت اور دبدے میں کوئی فرق آتا ہے ۔ لیکن جو شخص اﷲ(عزوجل)کو باطنی مشاہدے کے ساتھ پہچان لیتا ہے تو اسے معلوم ہوجاتاہے کہ اﷲ (عزوجل) اپنے اس قول میں سچا ہے کہ یہ لوگ جنت کے لئے ہیں اور مجھے اس کی پرواہ نہیں اور یہ جہنم میں جائیں گے اور مجھے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں ۔ اس کی ہیبت و خوف کے بارے میں اتنا جاننا کافی ہے کہ وہ مستغنی اور بے پرواہ ہے ڈرنے والوں کے دوسرے طبقے کو چاہئے کہ وہ اپنے دل میں اس مکروہ بات کو یاد رکھیں جیسے موت کی سختیاں' منکر نکیر کے سوالات' عذاب قبر یا قیامت کا