ایک کتاب پکڑی ہوئی تھی۔
'' یہ اﷲ (عزوجل) کی کتاب ہے جس میں تمام جنتیوں کے نام اور ان کے آباؤ اجداد کے نام لکھے ہیں ان میں نہ اضافہ ہوگا اور نہ ہی کمی '' پھر بائیں دستِ کرم کو اٹھایا جس میں ایک دوسری کتاب تھام رکھی تھی فرمایا '' یہ اﷲ (عزوجل) کی کتاب ہے جس میں جہنمیوں اور ان کے آباؤ اجداد کے نام ہیں ان میں کوئی کمی زیادتی نہ ہوگی اور اہل سعادت کو ضروربدبخت لوگوں کے اعمال کا علم ہوگاحتی کہ کہا جائے گا گویا کہ وہ ان میں سے ہیں بلکہ وہ تو وہی ہیں پھر اﷲ(عزوجل)ان کو موت سے پہلے (بد بختی سے) بچالیتا ہے اگرچہ اونٹنی کا دودھ نکالتے وقت دو دھاروں کے درمیان وقفے جتنا وقت ہو اور بدبخت لوگوں کو بھی' نیک بخت لوگوں کے اعمال کا علم ہوگا حتی کہ کہا جائے گاگویا کہ وہ ان( یعنی نیکوں )میں سے ہیں بلکہ وہ تو وہی ہیں پھر اﷲ(عزوجل)ان کو موت سے پہلے نیکوں کی فہرست سے نکال لے گا اگرچہ اونٹنی کو دوہتے وقت دو دھاروں کے درمیان جتنا وقت ہو ۔نیک بخت وہ ہے جو اﷲ (عزوجل)کے ازلی فیصلے کے وقت نیک بخت ہوا اور بدبخت وہ ہے جو اﷲ(عزوجل)کے فیصلے کے ذریعے بدبخت ہوا اور اعمال کا اعتبار خاتمے سے ہوتا ہے۔ (مسند امام احمد بن حنبل جلد ۲ ص ۱۶۷ مرویات عبد اﷲ بن عمرو)۔
یہ اسی طرح ہے جیسے دوڈرنے والے ہوں اور ان میں سے ایک اپنے رب (عزوجل) کی نافرمانی اور جرم کی وجہ سے ڈرتا ہے اور دوسرا اﷲ (عزوجل) کی ذات سے اس کی صفت وجلال اور ان صفات کی وجہ سے ڈرتا ہے جو لامحالہ مشقت کا تقاضا کرتی ہیں اور یہ اعلیٰ رتبہ ہے اسی لئے اس کا خوف باقی رہتا ہے۔
تومیٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! معصیت سے خوف صالحین کا خوف ہے اور اﷲ لسے خوف موحدین صدیقین کا خوف ہے اوریقیناًیہ اﷲ (عزوجل) کی معرفت کا نتیجہ ہے کہ جو شخص اﷲ(عزوجل) اور اس کی صفات کو پہچان لیتا ہے وہ اس کی صفات میں سے اس صفت کو بھی جان لیتا ہے جو اس لائق ہے کہ کسی گناہ کے بغیر بھی اﷲ(عزوجل)سے ڈرا جائے بلکہ گناہ گار شخص اگر صحیح طور پر اﷲ(عزوجل)کی معرفت حاصل کرلے تو وہ اﷲ(عزوجل) سے ڈرے گا اس کی نافرمانی سے نہیں۔