یا دینوی زیب و زینت کے ذریعے دھوکے کا شکار ہونے کا خوف ۔
یا اس بات کا ڈر ہو کہ اﷲ (عزوجل) تو میری خفیہ باتوں کو جانتا ہے ہے اور میں غافل ہوں۔
یا موت کے وقت برے خاتمے کا ڈر ہو ۔
یا یہ خوف کہ ازل میں اس کے لئے کیا فیصلہ ہو چکا ہے ۔
تومیٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! عارفین کو ان تمام باتوں کا خوف رہتا ہے اور ان میں سے ہر ایک کا خصوصی فائدہ ہے یعنی وہ اس چیز سے بچنے کا راستہ اختیار کرتا ہے جس کا اسے خوف ہوتا ہے۔
جسے عادت کے غالب آنے کا خوف ہوتا ہے وہ عادت کو ترک کرنے کی کوشش کرتا ہے جسے اس بات کا ڈر ہوتا ہے کہ اﷲ(عزوجل)کو اس کی خفیہ باتوں پر اطلاع ہے وہ دل کو وسوسوں سے پاک کرنے کی کوشش کرتا ہے باقی اقسام کی بھی یہی صورت ہے۔
اور ان مقاماتِ خوف میں سے سب سے زیادہ یقین کے ساتھ غالب خوف بُرے خاتمے کا خوف ہے کیونکہ یہ معاملہ بہت خطرناک ہے اور سب سے اعلیٰ اور کمال معرفت پر سب سے زیادہ دلالت کرنے والی قسم ازلی فیصلے کا خوف ہے کیونکہ خاتمہ تو اس ازلی فیصلے کے تابع ہے ، پس خاتمہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے جو قضاء کے سلسلے میں پہلے سے لوحِ محفوظ میں موجود ہے تو خاتمے سے ڈرنے والے کی اس شخص سے نسبت جو ازلی فیصلے سے ڈرتا ہے ان دو آدمیوں کی طرح ہے جن کے حق میں بادشاہ نے خفیہ فیصلے پردستخط کرکے دیئے اور اس بات کا احتمال ہے کہ اسے سزائے موت کا حکم ہو اور یہ بھی امکان ہے کہ اس کو وزارت سونپنے کا حکم دیا ہو۔
اور ابھی تک ان دونوں کے پاس وہ پروانہ (حکومتی آرڈر) نہیں پہنچا ۔اب جس وقت وہ پروانہ پہنچتا ہے تو ایک سوچتا ہے کہ معلوم نہیں اس میں کیا ہوگا اور دوسرے کے دل میں یہ خیال آتا ہے کہ جب بادشاہ مہر لگا کر دستخط کررہا تھا تو اس وقت اس وقت اس نے نجانے کیا فیصلہ کیا ہو گااور نجانے دستخط کرتے وقت میرے لئے بادشاہ کے دل میں رحمت تھی یا غضب؟یعنی ایک شخص تو اس فیصلے پر توجہ کرتا ہے جو شاہی خط میں تحریر ہے اوردوسرا بادشاہ کی اُس کیفیت کی طرف توجہ کرتا ہے جس میں اُس نے فیصلہ تحریر کیا ہوگا اِن میں سے دوسرا شخص پہلے کی نسبت بہتر ہے اسی طرح رب عزّوجل کے ازلی فیصلے کی طرف توجّہ کرنے والا اُس سے بہتر ہے جو اپنے خاتمے کی طرف توجہ کرے ۔
چنانچہ نبی اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے اسی بات کی طرف اشارہ فرمایا جب ایک دن آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے منبر شریف پر خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایااُس وقت آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے اپنے دائیں ہاتھ میں