ناپسندیدہ امر تک پہنچائے گا اس لئے وہ ناپسند ہیں اور جس طرح بیمار نقصان دِہ پھلوں کو ناپسند کرتا ہے کیونکہ وہ موت تک پہنچاتے ہیں لہٰذا ہر خوف رکھنے والے کے لئے لازمی ہے کہ وہ اپنے دل میں ان دو قسموں میں سے کسی ایک کی مثالی شکل بنائے اور دل میں اس خیال کو پختہ کرے یعنی یہ سوچے کہ میں ایسے کام نہ کروں جو اللہ (عزوجل) کے غضب یا جہنم کے عذاب کا باعث ہوں یعنی بندے کو چاہئے کہ اپنے دل میں ان دونوں ناپسندیدہ باتوں (اللہ (عزوجل) کی ناراضگی اور عذاب جہنم )کا خیال جمائے تاکہ اس کا دل خوف خدا د میں جلنا شروع ہو جائے۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! خائفین کے دلوں پر جو مکروہات یعنی ناپسندیدہ چیزوں کے خیالات غالب آتے ہیں اسی اعتبار سے ان لوگوں کے مقامات بھی مختلف ہیں پس وہ لوگ جن کے دلوں پر وہ چیز غالب ہو جو ذاتی طور پر نہیں بلکہ کسی دوسری وجہ سے مکروہ ہے وہ اُن لوگوں کی طرح ہیں جن کا خوف مندرجہ ذیل وجوہات میں سے کسی ایک وجہ سے ہوتا ہے ۔
وہ یہ سوچتے ہیں کہ کہیں ہم اللہ (عزوجل) سے کیا ہوا وعدہ نہ توڑ بیٹھیں یا ہم کمزوری کے باعث اﷲ لکے تمام حقوق کو ادا کرنے سے قاصر رہ جائیں گے ۔
یا کہیں ہمارے دل کی نرمی ختم نہ ہو جائے ۔
یا کہیں ہم سیدھے راستے سے نہ بھٹک جائیں۔
یا کہیں ہم اپنی خواہشات کے غلام نہ بن جائیں اور گناہ کرنا کہیں ہماری عادت نہ بن جائے ۔
یا انہیں یہ خوف ہوتا ہے کہ اﷲ (عزوجل) ان نیکیوں کے بارے میں پوچھ گچھ فرمائے گا جن پرہم نے بھروسہ کرلیا اور ان کے ذریعے لوگوں کے درمیان عزت حاصل کرلی ۔
یا اﷲ(عزوجل) کی نعمتوں کی کثرت کے باعث تکبر پیدا ہونے کا خوف ۔
یا اس بات کا خوف کہ اﷲ (عزوجل) کو چھوڑ کر اس کے غیر کے ساتھ مشغول نہ ہوجائيں۔
یا یہ خوف کہ کہیں نعمتوں کاتواتر اللہ (عزوجل) کی ڈھیل تو نہیں کہ پھر آہستہ آہستہ پکڑے جائیں۔
یا یہ ڈر ہو کہ کہیں ہم نفس کے دھوکے میں آکر اپنی عبادتوں برباد کر رہے ہوں اورکل اﷲ(عزوجل)کی طرف سے وہ بات ظاہر ہو جس کا گمان بھی نہ ہو۔
یا یہ خوف کہ لوگ انکی غیبت، خیانت ،دھوکے یا کینے کی وجہ سے ان کے پیچھے نہ لگ جائیں ۔
یا اس برائی کا خوف جس کا علم نہیں کہ وہ آئندہ زندگی میں پیدا ہوسکتی ہے۔
یا دنیا میں فوری طور پر عذاب کے پہنچنے اور موت سے پہلے رسوائی کا ڈر ہو۔