| فیضانِ اِحیاءُ العُلوم |
نے ہلاک کیا اس کا رتبہ اس نبی یا ولی کے درجہ سے زیادہ ہوتا جو طبعی موت سے انتقال کرتے ہیں اور یہ بات محال ہے پس ایسا گمان بھی نہیں کرنا چاہئے بلکہ سب سے افضل سعادت یہ ہے کہ اﷲ (عزوجل) کی عبادت کے لئے طویل عمر حاصل ہو تو جو چیز عمر کو ختم کردے یا عقل کو زائل کردے یا اس صحت کو ختم کردے جس کی وجہ سے زندگی معطل ہو کررہ جاتی ہے تو ایسی شئے کچھ امور کی طرف نسبت سے نقصان ہی نقصان ہے اگرچہ بعض دوسرے امور کی نسبت سے اس کی بعض اقسام افضل قرار پاتی ہیں جیسے شہادت اپنے سے نچلے درجے کی طرف اضافت کی وجہ سے افضل ہے اورجب متقین اور صدیقین کے درجہ کی طرف نسبت کریں تو یہ افضل نہیں ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اگر خوف اعمال پر اثرانداز نہ ہو تو اس کا ہونا نہ ہونا برابر ہے تو یہ اس لاٹھی کی طرح ہے جو جانور کو حرکت نہیں دے سکتی اور اگر وہ اثر کرے تو اثر کے ظہور کے اعتبار سے اس کے کئی درجے ہیں ۔
افضل ترین خوف :
چنانچہ جب خوف عفت پیدا کرے تو اس کے لئے ایک درجہ ہے اور جب ورع پیدا کرے تو وہ اعلیٰ درجہ ہے اور سب سے انتہائی درجہ یہ ہے کہ صدیقین کے درجات تک پہنچائے ۔وہ یہ ہے کہ بندہ ظاہر وباطن میں ماسویٰ اﷲ(عزوجل)سے قطع تعلق کرلے حتی کہ غیر کی کوئی گنجائش نہ رہے اور یہ وہ انتہائی درجہ ہے جو قابل تعریف ہے اور اس کے لئے صحت و عقل کا باقی رہنا ضروری ہے اور اگر یہ خوف عقل وصحت کے ازالے کی طرف تجاوز کرجائے تو وہ مرض میں تبدیل ہو جائے گا ۔اگر ہوسکے تو اس کاعلاج کیا جائے ۔ اسی لئے حضرت سیدنا سہل رحمہ اللہ عزوجلنے اپنے ان مریدوں سے جنہوں نے کئی دن تک بھوک کو اختیار کئے رکھا' فرمایا'' اپنی عقلوں کی حفاظت کرو کیونکہ کوئی بھی ناقص العقل اﷲ (عزوجل) کا ولی نہیں ہوتا''۔
فصل نمبر ۳
جس چیز کا خوف ہوتا ہے اس کی نسبت سے اقسامِ خوفمیٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!سیدنا امام غزالی (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) ذیل میں خوف کی اقسام بیان فرما رہے ہیں جسکاخلاصہ کچھ یوں ہے جاننا چاہئے کہ خوف کسی ناپسندیدہ بات کے اتنظار کی وجہ سے ہوتا ہے اور ناپسندیدہ بات یا تو ذاتی طور پر ناپسند ہوگی جیسے آگ وغیرہ یا اس لئے ناپسندیدہ ہوگی کہ وہ کسی ناپسندیدہ (مکروہ) بات تک پہنچاتی ہے جیسے گناہوں کا ارتکاب آخرت میں