کہ بندہ اپنے انجام سے واقف نہیں ہوتا کیونکہ اگر وہ واقف ہوتا تو خائف نہ ہوتا اور عجز (یعنی بے چارگی )اس اعتبار سے کہ ایک ناپسندیدہ شے اس کے پیچھے پڑی ہوئی ہے جسے وہ دور نہیں کرسکتا۔
البتہ اس اعتبار سے خوف اچھی شے ہے کہ اس سے انسان دیگر نقصانات سے محفوظ رہتا ہے ۔ جب کہ فی نفسہٖ علم اور قدرت اعلی صفات ہیں اور جہالت و بے چارگی اعلی صفات نہیں ۔کیونکہ ہر وہ بات جو اللہ عزوجل کا وصف بن سکتی ہے وہ محمود ہے اور جو چیز اﷲ (عزوجل) کا وصف نہیں بن سکتی وہ ذاتی طور پر کمال نہیں البتہ کسی دوسرے اعتبار سے اُسے اچھا کہا جاسکتا ہے جیسے دوائی کی تکلیف محمود ہے کیونکہ وہ موت اور مرض کی تکلیف سے آسان ہے بہرحال جو بات نا امیدی کی طرف لے جائے وہ مذموم ہوتی ہے۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بعض اوقات خوف بھی بیماری' کمزوری دہشت اور زوالِ عقل کا باعث بن جاتا ہے بلکہ بعض اوقات خوف موت تک پہنچادیتا ہے اور یہ سب کچھ مذموم ہے اور یہ ایسی ضرب کی طرح ہے جو بچے کو بجائے تربیت دینے کے ہلاک کردیتی ہے اور وہ کوڑا جو جانور کو ہلاک یا بیمار کردیتا ہے یا اس کے کسی عضو کو توڑ دیتا ہے۔
چنانچہ نبی اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے امید کے اسباب بہت زیادہ بیان کئے تاکہ ان کے ذریعے حد سے بڑھے ہوئے خوف کا علاج کیا جائے اور ہر وہ شئے جو خود مقصود اصلی نہ ہو بلکہ کسی دوسری شئے کو حاصل کرنے کا وسیلہ ہو وی اسی وقت قابل تعریف ہے کہ جب مقصود تک پہنچادے اور جو مقصود تک نہ پہنچے یا حد سے تجاوز کرجائے تو وہ مذموم ہے بالکل اسی طرح خوف مقصود اصلی نہیں بلکہ اس سے مقصود عفت، ورع، تقویٰ، مجاہدہ، عبادت ذکر وفکرکا حصول ہے اور وہ تمام اسباب ہیں جو اﷲ (عزوجل) تک پہنچائیں اور یہ سب باتیں تقاضا کرتی ہیں کہ بندے کی جسمانی اور ذہنی صحت قائم رہے پس جو بات ان اسباب میں خرابی کا باعث بنے وہ مذموم ہے۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اب یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ:
جو شخص اللہ (عزوجل) سے خوف زدہ ہو کر مرجائے وہ شہید ہوتا ہے تو اس کی حالت مذموم کیسے ہوسکتی ہے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بات تو ٹھیک ہے کہ اسے شہید کا رتبہ ملتا ہے کیونکہ اس کی موت کا سبب خوف خدا لہے لیکن اگروہ اس وقت نہ مرتا بلکہ خوف خدا د کے پیش نظر گزارتا اور ایک طویل عمر اللہ (عزوجل) کی عبادت میں صرف کرتا تو یہ اس شہادت سے بہتر ہوتا ۔
کیوں کہ جو شخص فکر و مجاہد ے کے طریقے سے اﷲ (عزوجل) کی طرف چلتا ہے اور معارف کے درجات میں ترقی کرتا ہے اسے ہر لمحے شہید بلکہ شہداء کا رتبہ حاصل ہوتا ہے اگر یہ بات نہ ہوتی تو قتل ہونے والے بچے یا جس مجنون کو کسی درندے