Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
151 - 325
کم خوف :
یہ عورتوں کی رقتِ قلبی کی طرح ہوتا ہے مثلاً جب قرآن پاک کی کوئی آیت سنی جاتی ہے تو دل میں خوف پیدا ہوتا ہے اور اس سے رونے کی صورت پیدا ہوتی اور آنسو جاری ہوجاتے ہیں اسی طرح جب کسی پریشان کن سبب کی وجہ سے بھی آنسو جاری ہوجاتے ہیں لیکن یہ کیفیت وقتی طور پر طاری ہوتی ہے چنانچہ جب یہ سبب یعنی تلاوت وغیرہ ختم ہوجائے تودل غفلت کی طرف لوٹ آتا ہے تو یہ کم درجہ کا خوف ہے ۔
نتیجہ :
اس کا نتیجہ قلیل اور نفع تھوڑا ہوتا ہے جیسے کسی کمزورلکڑی سے کسی طاقتور جانور کو مارا جائے تو وہ زیادہ تکلیف نہیں پہنچاتی اور نہ ہی منزل مقصود تک لے جانے کیلئے کافی ہوتی ہے یونہی اس سے لگائی ہوئیں ضربیں جانور کی تربیت میں کچھ کام آسکتی ہیں اورعوام الناس کا خوف بھی اسی قسم کا ہوتا ہے البتہ عارفین اور علمائے حق کا معاملہ الگ ہے اور علماء سے میری مرادوہ علماء نہیں جوصرف نام کے علماء ہیں کیونکہ ایسے علماء تو خوف کے مُعاملے میں عوام الناس سے بھی گئے گزرے ہوتے ہیں ۔ بلکہ میری مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ عزوجل کی معرفت اور اس کے ایام اور اس کے افعال کا علم رکھتے ہیں اور ایسے لوگ اس زمانے میں بہت کم پائے جاتے ہیں۔

اسی لئے حضرتِ سَیِّدُنا فضیل بن عیاض رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ نے فرمایا اگر تم سے پوچھا جائے کہ کیا تم اللہ عزوجل سے ڈرتے ہو' تو خاموش رہو کیونکہ اگر تم کہو گے نہیں تو یہ کفر ہے اور اگر تم ہاں کہو گے تو جھوٹ ہوگا۔

چنانچہ انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ خوف ہی اعضاء کو گناہوں سے روکتا ہے اور اِن کو عبادات کی زنجیروں میں جکڑتا ہے اور جوبات اعضاء میں اثر نہ کرے وہ محض خواب وخیال کی باتیں ہیں جوخوف کہلانے کی مستحق نہیں ۔
حد سے زیادہ خوف :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اب اُس خوف کے بارے میں سنئے جو حد سے تجاوز کرجائے ۔چنانچہ خوف جب حد سے بڑھ تو بندہ مایوسی کی طرف نکل جاتا ہے اور یہ بھی مذموم ہے کیونکہ مایوسی عمل سے روک دیتی ہے ۔ اور بعض اوقات اِس خوف کی وجہ سے مختلف امراض ' کمزوری ' دہشت اور عقل کا زوال جنم لیتا ہے ۔

دراصل خوف سے مراد ایسا کَوڑا ہے جو عمل پر مجبور کرتا ہے اور اگر یہ بات نہ ہوتی تو خوف کمال نہ ہوتا کیونکہ حقیقت میں یہ ایک طرح کا نقصان ہے اس لئے کہ خوف جہالت اور بے چارگی کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے 'جہالت اس اعتبارسے ہے
Flag Counter