| فیضانِ اِحیاءُ العُلوم |
تعلق رکھنے والے جائز کاموں کو بھی چھوڑ د ے ۔ اور یہ تمام صفات بندے میں درجہ بہ درجہ ترقی کرتی رہتی ہیں ۔اور جس قدر خوف بڑھتا جاتا ہے انسان عفت سے ورع اور ورع سے تقویٰ اور پھر تقوی سے صدق کی طرف ترقی کرتا رہتا ہے ۔ اور ہر دوسرا مرتبہ پہلے مرتبہ کے مقابلے میں اسی طرح ہے جس طرح اخص' اعم کے مقابلے میں ہوتا ہے جب اخص کا ذکر کیا تو کُل کا ذکر کردیا جیسے آپ کہیں کہ انسان عربی ہوگا یا عجمی اور عربی قرشی ہوگا یا غیر قرشی ' اور قرشی ہاشمی ہوگا یا غیر ہاشمی' پھر ہاشمی علوی ہوگا یا غیر علوی اور علوی حسنی ہوگا یا حسینی۔ اگرآپ یہ کہیں کہ وہ شخص حسنی ہے تو آپ نے تمام اوصاف کے ساتھ اس کا ذکر کردیا اور اگر آپ یہ کہیں کہ وہ علوی ہے تو آپ نے اس سے اوپر والی صفات کے ساتھ ذکر کیا جو اس سے عام ہیں اسی طرح جب آپ یہ کہیں کہ فلاں شخص صدیق ہے تو گویاآپ نے کہا کہ وہ متقی پرہیز گار اور عفیف ہے۔
فصل ۔۔۔۔۔۔ ۲ خوف کے درجات اور قوت کے اعتبار سے اسکا اختلاف:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! یہاں سَیِّدُنا امام غزالی علیہ الرحمۃ خوف کے درجات اور اِس کی قوت کے اعتبار سے اس کے مختلف درجات بیان فرمارہے ہیں۔چنانچہ فرماتے ہیں ۔ جان لو کہ خوف قابل تعریف شے ہے اور بعض اوقات یہ گمان کیا جاتا ہے کہ ہر خوف اچھا ہوتا ہے اور خوف جتنا زیادہ قوی اور بکثرت ہوگا اتنا زیادہ قابل تعریف ہوگا اور یہ بات غلط ہے بلکہ خوف تو اﷲ (عزوجل) کا ایک کوڑا ہے جس کے ذریعے وہ اپنے بندوں کو علم و عمل پر مواظبت (ہمیشگی) کی طرف لے جاتا ہے تاکہ ان دونوں کے ذریعے وہ اﷲ (عزوجل) کاقرب حاصل کرسکے چونکہ جانوروں کے لئے زیادہ اچھایہی ہے کہ وہ کوڑے سے خالی نہ ہوں اور یہی حال بچوں کا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ مارنے میں مبالغہ کوئی اچھی چیز ہے بلکہ جانور اور بچے کی نفسیات اور اس کی صلاحیت کے اعتبار سے اُسے کام دینا چاہیئے اور اِسی اعتبار سے اُس پر سختی کرنی چاہیئے ۔اسی طرح اﷲ (عزوجل) کا خوف بھی کم اور زیادہ ہوسکتا ہے اور بہتر وہ خوف ہے جو اعتدال پر مبنی ہو۔